امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ہوانا کا ایک اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے کیوبا کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی ہے۔
مزید پڑھیں
اس دورے کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ پیغام پہنچانا تھا کہ کیوبا میں بنیادی تبدیلیاں آنے تک واشنگٹن تعاون نہیں کرے گا۔
کیوبا پر امریکی پابندیوں کو اب 60سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جو سرد جنگ کے دور میں شروع ہوئی تھیں۔
المجلہ کی رپورٹ کے مطابق یہ پالیسی اب ایک ایسی وراثت بن چکی ہے جسے بدلنا واشنگٹن کے لیے سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہے، حالانکہ
اس کے مطلوبہ نتائج اب تک حاصل نہیں ہو سکے۔
ان پابندیوں کا آغاز 1959 کے انقلاب اور فیڈل کاسترو کی جانب سے امریکی املاک کو قومیانے کے بعد ہوا تھا۔
1961 میں صدر جان ایف کینیڈی نے مکمل اقتصادی بائیکاٹ نافذ کیا، جس کا مقصد کیوبا کی حکومت کا تختہ الٹنا اور اس کے بڑھتے ہوئے سوویت اثرات کو روکنا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ پابندیاں محض انتظامی احکامات سے نکل کر پیچیدہ قوانین کی شکل اختیار کر گئیں۔
1992 اور 1996 کے قوانین نے ان پابندیوں کو ختم کرنا مزید مشکل بنا دیا، جس کے بعد صدارتی اختیارات محدود ہو گئے اور حتمی فیصلہ سازی اب امریکی کانگریس کے پاس ہے۔
واشنگٹن ان پابندیوں کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا دفاع کہتا ہے، جبکہ ہوانا اسے معاشی محاصرہ کہتا ہے۔
اس کشمکش میں کیوبا کے عوام بجلی کی بندش، خوراک کی قلت اور شدید معاشی بحران کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے وہاں سے بڑے پیمانے پر ہجرت ہو رہی ہے۔
کیوبا کی حکومت ان پابندیوں کو اپنی معاشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور قوم پرستی کو ابھارنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ ملک کی تمام مشکلات کی ذمہ دار امریکی پالیسیاں ہیں، جس سے انہیں عوام میں سیاسی مزاحمت کا بیانیہ بنانے میں مدد ملتی ہے۔
سابق صدر باراک اوباما نے 2014 میں تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار میں آکر ان اقدامات کو ختم کر دیا۔
جنوری 2025 میں جو بائیڈن کی جانب سے دی گئی رعایتوں کو بھی ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر کالعدم قرار دے دیا۔ حالیہ پابندیوں میں کیوبا کے عسکری ادارے ’گائیسا‘ اور مائننگ کمپنی ’موا نکل‘ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ وہ صرف فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا چاہتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس کے اثرات براہ راست عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔
عالمی سطح پر امریکہ کو اس پالیسی میں تنہائی کا سامنا ہے، کیونکہ اکتوبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 165 ممالک نے پابندیوں کے خلاف ووٹ دیا۔
صرف 7 ممالک نے امریکہ کی حمایت کی جبکہ 12 ممالک نے اس اہم رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں کیوبا میں سیاسی تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں، بلکہ اس سے امریکی تاجروں کو بھی مالی نقصان پہنچا ہے۔
یہ پالیسی اب ایک ایسا دائرہ بن چکی ہے جہاں واشنگٹن اور ہوانا دونوں اپنے اپنے سخت موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔