ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی میٹا نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اندرونی تنظیم نو کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ اس جامع منصوبے کا بنیادی مقصد میٹا کی تمام تر توجہ مصنوعی ذہانت پر مرکوز کرنا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اندرونی انتظامی مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز سے مجموعی افرادی قوت کے 10 فیصد ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی 7 ہزار ملازمین کو مصنوعی ذہانت سے متعلق مختلف نئے اور اہم ترین تزویراتی منصوبوں پر منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں میٹا نے کئی روایتی انتظامی عہدوں کو بھی مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کمپنی کے ڈھانچے کو مزید فعال بنایا جا سکے۔
اب کمپنی چھوٹی اور متحرک ٹیموں پر مبنی تنظیمی ڈھانچہ اپنائے گی جو جدید ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہوں گی۔
ان بڑی تبدیلیوں سے کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 20 فیصد حصہ براہ راست متاثر ہوگا، جس کی کل تعداد مارچ کے اختتام تک 78 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ میٹا نے تنظیم نو کے اس عمل کے دوران 6 ہزار خالی اسامیوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹا کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت نے کمپنی کو اپنے روایتی طریقہ کار اور افرادی قوت کے استعمال میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا ہے۔