پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچ گئے، جہاں وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کے لیے سفارتی رابطے کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ کا دائرہ خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے قوم، حکومت اور ریاستی اداروں کے اتحاد کو بھی سراہا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شام اعلان کیا تھا کہ ایران پر منگل کے روز ہونے والا مجوزہ فوجی حملہ معطل کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں، اور قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنما سمجھتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکہ، مشرق وسطیٰ اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ممکنہ معاہدے کا بنیادی نکتہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 8 اپریل سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔