یمن کے سابق وزیر اطلاعات اور صحافتی تنظیم کے رکن نصر طہ مصطفیٰ نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت ہمیشہ ایران کے حق میں ثابت ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
عالمی سطح پر ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی شدید مخالفت جای ہے، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سمیت روس اور چین بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حق میں نہیں ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ ایران کے سیاسی رویے پر عدم اعتماد ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں پرامن ایٹمی توانائی کا حصول تہران کا قانونی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔
ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے سے پہلے اور بعد میں اس میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
2018 میں امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتحال دوبارہ صفر پر آگئی تھی، جس سے ایران کو یورینیم کی افزودگی دوبارہ تیز کرنے کا ایک بہترین موقع میسر آ گیا۔
اکتوبر 2003 میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ایٹم بم کی تیاری کے خلاف فتویٰ دیا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں افزودگی کی شرح اس سطح تک پہنچ چکی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی پروگرام اب اس مذہبی فتوے کی حدود سے نکل چکا ہے۔
اُدھر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی منسوخی اور پابندیوں کی پالیسی بھی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی۔
سابق صدر جو بائیڈن بھی اوباما دور کی پالیسیوں کے تسلسل کے باوجود نہ تو معاہدہ بحال کر سکے اور نہ ہی ایران کی ایٹمی رفتار کو روکنے میں کامیاب ہو پائے۔
مبصرین کے مطابق 7 اکتوبر کے واقعات نے مشرق وسطیٰ اور دنیا کو تنازع کے ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ کے ساتھ ایران کے تصادم کے نتائج حیران کن طور پر اب تک تہران کے حق میں ہی نکل رہے ہیں۔
1988 کی عراق ایران جنگ کے بعد سے خطے میں ایرانی اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اسی سلسلے میں کویت کی آزادی کے لیے ہونے والی بین الاقوامی مداخلت نے ایران کو اپنی سرحدوں سے نکل کر علاقائی کردار ادا کرنے کا پہلا بڑا موقع فراہم کیا تھا۔
اسی طرح سابق شامی صدر حافظ الاسد نے بھی ایران کے لیے عرب دنیا میں داخلے کا راستہ ہموار کیا۔
اس شراکت داری نے لبنان میں حزب اللہ جیسی تنظیم کو مضبوط کیا، جو اب ایران کے سپریم لیڈر کے ساتھ مکمل وفاداری کا کھلم کھلا اعلان کرتی نظر آتی ہے۔
اپریل 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق ایران کے لیے سب سے بڑا انعام ثابت ہوا ہے۔
تہران آج بھی عراقی وزرائے اعظم کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور اسے اپنا مغربی دفاعی گیٹ وے تصور کرتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 کے جوہری معاہدے کے عوض ایران کو شام اور یمن میں کھلی چھوٹ دی۔
سابق ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان کے مطابق شام میں اسد حکومت بچانے کے لیے ایران نے جوہری فائل پر کچھ رعایتیں دی تھیں۔
یمن اور لبنان کے معاملے پر بھی اوباما نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اثر و رسوخ کی تقسیم کی حوصلہ افزائی کی تھی، تاہم سعودی عرب نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ان تجاویز اور مبینہ تزویراتی شراکت داری کے منصوبوں کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔
موجودہ صورتحال میں ایران آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم کے معاملے پر کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے۔
تہران اپنے پڑوسی ممالک کے معاشی مفادات کی پروا کیے بغیر اس تنازع کو اپنی تزویراتی برتری اور عالمی دباؤ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
اس تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حالیہ بندش نے عالمی توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے جس سے بین الاقوامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
ایران کو ادراک ہے کہ اس امریکی مداخلت نے اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول جیسا اہم تزویراتی فائدہ پہنچایا ہے۔
ماہرین کے مطابق اب صورت حال یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر کسی نئے معاہدے یا فوجی تصادم کے ذریعے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کریں گے۔
اُدھر ایران بھی مضبوط پوزیشن میں ہے کیونکہ اس نے تزویراتی طور پر وہ اہداف حاصل کر لیے ہیں جو ماضی میں اس کی پہنچ سے دُور تھے۔
بظاہر نظر آتا ہے کہ مستقبل کے مذاکرات میں ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرے گا۔
دوسری جانب ممکن ہے کہ واشنگٹن اس معاملے کو علاقائی ممالک اور چین پر چھوڑ دے اور ایران عارضی طور پر اپنے جوہری عزائم کو محدود کرنے کا معاہدہ کر لے۔