2024 میں چین مسلسل عالمی سطح پر سونے کا سب سے بڑا پیداواری ملک رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے 380.2 ٹن سونا پیدا کیا، جو عالمی پیداوار کا 10 فیصد سے زائد ہے۔ چین گزشتہ ایک دہائی سے اس شعبے میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
چین نہ صرف سونے کی پیداوار میں سرفہرست ہے بلکہ یہ خود اس کا سب سے بڑا صارف بھی ہے۔
یہی دہرا کردار چین کو سونے کی عالمی منڈی میں ایک کلیدی حیثیت
دیتا ہے۔ کان کنی، ریفائننگ، جیولری کی مانگ اور مرکزی بینکوں کے ذخائر میں چین کا عمل دخل مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
عالمی سطح پر پیداوار
روس، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ بدستور دنیا کے صف اول کے پیداواری ممالک میں شامل ہیں۔
روس نے پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود سونے کی پیداوار میں اپنی دوسری پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا نے بھی اپنے وسیع معدنی ذخائر اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیداواری صلاحیت کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔
افریقہ کا بڑھتا ہوا عالمی اثر و رسوخ
دوسری جانب افریقی براعظم خاموشی سے سونے کی عالمی پیداوار کا مرکز بن چکا ہے اور اب عالمی سپلائی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ یہاں سے آتا ہے۔
گھانا 140.6 ٹن پیداوار کے ساتھ سرفہرست ہے، مالی اور جنوبی افریقہ بھی اہم پیداواری ممالک میں شامل ہیں۔
افریقی معیشتوں کے لیے سونے کی اہمیت
برکینا فاسو، سوڈان، تنزانیہ اور آئیوری کوسٹ جیسے ممالک میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھی ہے۔
ان ممالک کی معیشت کا بڑا انحصار سونے کی برآمدات پر ہے، جو حکومتی محصولات اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سیاسی و سکیورٹی چیلنجز
افریقہ میں سونے کی پیداوار میں اضافے کے باوجود سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔
ان رکاوٹوں کے باوجود افریقہ بین الاقوامی مائننگ کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک پرکشش مرکز بنا ہوا ہے اور یہاں پیداواری صلاحیت میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں۔
شمالی اور جنوبی امریکہ کی حیثیت
کینیڈا 202.1 ٹن پیداوار کے ساتھ براعظموں میں سب سے بڑا اور دنیا کا چوتھا بڑا پیداواری ملک ہے۔ میکسیکو 140.3 ٹن اور امریکہ 158 ٹن پیداوار کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔
اسی طرح پیرو، برازیل، کولمبیا اور ارجنٹائن بھی عالمی مارکیٹ میں اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اہم پیداواری ممالک کی درجہ بندی
ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق دنیا کے سرفہرست 10 پیداواری ممالک میں چین، روس، آسٹریلیا، کینیڈا، امریکہ، گھانا، میکسیکو، انڈونیشیا، پیرو اور ازبکستان شامل ہیں۔
یہ ممالک اجتماعی طور پر عالمی سپلائی کا بڑا حصہ کنٹرول کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ رجحانات کا تعین ہوتا ہے۔
عالمی گولڈ مارکیٹ میں پیداوار کا مرکز چند ممالک تک محدود ہے۔ جہاں چین اور روس اپنی پوزیشن مضبوط کیے ہوئے ہیں، وہیں افریقہ کا ابھرتا ہوا کردار عالمی سپلائی چین میں توازن پیدا کر رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق مستقبل میں کان کنی کی ٹیکنالوجی اور سیاسی استحکام ہی پیداوار کی رفتار کو مزید متحرک رکھیں گے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق دنیا میں سونا پیدا کرنے والے سرفہرست 15 ممالک کی درجہ بندی یہ ہے:
1 – چین 380.2 ٹن
2 – روس 330.0 ٹن
3 آسٹریلیا 284.0 ٹن
4 – کینیڈا 202.1 ٹن
5 – ریاستہائے متحدہ 158.0 ٹن
6 – گھانا 140.6 ٹن
7 – میکسیکو 140.3 ٹن
8 – انڈونیشیا 140.1 ٹن
9 – پیرو 136.9 ٹن
10- ازبکستان 129.1 ٹن