ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے ساحلی شہر بتدریج سمندر کی سطح کی طرف دھنس رہے ہیں، جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، زمین کا بیٹھنا اور شہروں کا بڑھتا وزن اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
ان کے مطابق انسانی سرگرمیاں اور قدرتی عوامل مل کر دنیا کے کئی بڑے شہروں کو سمندر میں دھکیل رہے ہیں۔
ڈاکٹر اولسمان نے وضاحت کی کہ شہروں کا بہت زیادہ وزن بھی شہری علاقوں کے سمندر کی سطح سے نیچے جانے کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے۔
جیسے جیسے شہر بڑے ہو رہے ہیں اور فلک بوس عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، ویسے ویسے بھاری تعمیرات زمین پر دباؤ بڑھا رہی ہیں، جس سے زمین آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کی سطح بلند ہونے کے علاوہ شہری علاقوں میں یہ رفتار دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔
وہ ممالک جہاں سمندر کی سطح نسبتاً سب سے تیزی سے بلند ہو رہی ہے، ان میں تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، نائجیریا، مصر، چین اور انڈونیشیا شامل ہیں، جہاں سالانہ 7 سے 10 ملی میٹر تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
امریکہ، نیدر لینڈز اور اٹلی میں بھی غیر معمولی رفتار سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے، جہاں سالانہ 4 سے 5 ملی میٹر تک اضافہ ہو رہا ہے۔