اہم خبریں
20 May, 2026
--:--:--

خوفناک تحقیق: دنیا کے بڑے شہر سمندر میں ڈوبنے لگے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
شہر سمندر میں ڈوبنے لگے

ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے ساحلی شہر بتدریج سمندر کی سطح کی طرف دھنس رہے ہیں، جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، زمین کا بیٹھنا اور شہروں کا بڑھتا وزن اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پوری انسانیت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے اور یہ کئی خطرناک مظاہر اور آفات کو جنم دے رہی ہے لیکن ایک نئی تحقیق نے خوفناک انتباہ جاری کیا ہے کہ دنیا کے کئی مکمل شہر اور ساحلی شہری علاقے آہستہ آہستہ سمندر کی سطح کی طرف دھنس رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں رہنے والے لاکھوں افراد کسی بھی وقت ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق جسے العربیہ نے بھی نقل کیا ہے، میونخ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمین پر موجود کئی شہر خطرناک رفتار سے سمندر کی سطح کی جانب نیچے جا رہے ہیں۔

نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ زمین کا دھنسنا بعض ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہونے کی رفتار کو دوگنا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

محققین کا کہنا ہے کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ سب سے زیادہ بڑی اور گنجان آبادی والی شہری آبادیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

سمندر کی سطح بلند ہونے اور زمین کے دھنسنے کے مشترکہ اثرات کی وجہ سے زیادہ آبادی والے ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح نسبتاً اوسطاً تقریباً 6 ملی میٹر سالانہ بڑھ رہی ہے، جو عالمی اوسط 2.1 ملی میٹر سالانہ کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح زمین کا دھنسنا سمندر کی سطح میں حقیقی اضافے، جو سالانہ 3.15 ملی میٹر ریکارڈ کیا جا رہا ہے، کو بھی تقریباً دوگنا کر رہا ہے۔

میونخ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے مرکزی محقق ڈاکٹر جولیئس اولسمان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کی سطح بلند ہونے کے اثرات کو بہت زیادہ بڑھا سکتی ہے۔

ChatGPT Image 20 مايو 2026، 10 44 44 م

جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور گرم پانی پھیل رہا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے سمندروں کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

تاہم ڈاکٹر اولسمان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ صرف سمندر کی سطح کو دیکھنا کافی نہیں۔

ڈاکٹر اولسمان نے کہا کہ اگر ہم ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہونے کو مؤثر انداز میں سمجھنا اور اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سمندر ہی نہیں بلکہ زمین کی حالت پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔

زمین دھنسنے
کے باعث
بعض شہروں میں
سمندر کی سطح
سالانہ 6 ملی میٹر
تک بڑھ رہی ہے

ان کے مطابق انسانی سرگرمیاں اور قدرتی عوامل مل کر دنیا کے کئی بڑے شہروں کو سمندر میں دھکیل رہے ہیں۔
ڈاکٹر اولسمان نے وضاحت کی کہ شہروں کا بہت زیادہ وزن بھی شہری علاقوں کے سمندر کی سطح سے نیچے جانے کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے۔
جیسے جیسے شہر بڑے ہو رہے ہیں اور فلک بوس عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، ویسے ویسے بھاری تعمیرات زمین پر دباؤ بڑھا رہی ہیں، جس سے زمین آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کی سطح بلند ہونے کے علاوہ شہری علاقوں میں یہ رفتار دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔
وہ ممالک جہاں سمندر کی سطح نسبتاً سب سے تیزی سے بلند ہو رہی ہے، ان میں تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، نائجیریا، مصر، چین اور انڈونیشیا شامل ہیں، جہاں سالانہ 7 سے 10 ملی میٹر تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
امریکہ، نیدر لینڈز اور اٹلی میں بھی غیر معمولی رفتار سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے، جہاں سالانہ 4 سے 5 ملی میٹر تک اضافہ ہو رہا ہے۔

شہروں کے بڑھتے حجم کے باعث کئی ممالک میں زمین دھنسنے کے شدید واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

انڈونیشیا کا دار الحکومت جکارتہ، جس کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ ہے، دنیا کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار شہروں میں شامل ہے، جہاں شہر سالانہ 13.7 ملی میٹر کی رفتار سے سمندر کی طرف دھنس رہا ہے۔

اس کے بعد چین کا شہر تیانجن ہے، جہاں تقریباً 1 کروڑ 38 لاکھ افراد رہتے ہیں اور زمین سالانہ 13.5 ملی میٹر کی رفتار سے نیچے جا رہی ہے۔

اسی طرح بنکاک، لاگوس اور اسکندریہ بھی اوسط سے کہیں زیادہ رفتار سے زمین دھنسنے والے شہروں میں شامل ہیں، جہاں سالانہ بالترتیب 8.5، 6.7 اور 4 ملی میٹر کی شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔