اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

گوگل نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والی اسمارٹ عینک متعارف کرا دی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
گوگل اسمارٹ عینک
گوگل کی نئی اسمارٹ عینک صارف کو دیکھتے ہی معلومات، راستہ، پیغامات اور مشورے فراہم کرے گی

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت ’جیمنائی‘ سے چلنے والی نئی اسمارٹ عینک متعارف کرا دی ہے، جو صارف کے اردگرد موجود چیزوں کو سمجھ کر فوری معلومات فراہم کر سکے گی۔
یہ اقدام پہننے جانے والے اسمارٹ آلات کی مارکیٹ میں میٹا کے ساتھ مقابلے کو مزید تیز کرے گا، جبکہ ایپل بھی اپنی اسمارٹ عینک پر کام کر رہی ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت پر مبنی اپنی نئی اسمارٹ عینک متعارف کرا دی، جو اس کی مصنوعی ذہانت ایپ ’جیمنائی‘ پر کام کرے گی۔ 

یہ اقدام پہننے جانے والے اسمارٹ آلات کی مارکیٹ میں میٹا پلیٹ فارمز کے ساتھ مقابلے کو مزید تیز کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ 

توقع کی جا رہی ہے کہ کیمروں اور اسپیکرز سے لیس دو نئی اسمارٹ عینکیں رواں سال کے آخر میں فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے بتایا کہ ان اسمارٹ عینکوں کو سام سنگ الیکٹرانکس، جینٹل مونسٹر اور واربی پارکر نامی عینک ساز کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

عینک میں نصب کیمرہ مصنوعی ذہانت کے معاون ’جیمنائی‘ کو معلومات فراہم کرے گا، جس کی مدد سے صارف اپنے سامنے موجود چیزوں کے بارے میں سوالات پوچھ سکے گا۔ مثال کے طور پر جیمنائی 

قریبی ریسٹورنٹس کے بارے میں صارفین کی آراء بتا سکے گا، غیر معمولی بادلوں کی ساخت کی وضاحت کر سکے گا، پیغامات پڑھ سکے گا یا چلتے ہوئے صارف کی رہنمائی کر سکے گا۔

ChatGPT Image 20 مايو 2026، 01 09 10 م
عینک میں کیمرہ اور اسپیکرز موجود ہوں گے، فروخت رواں سال متوقع ہے

اس اقدام کے ذریعے گوگل براہ راست میٹا پلیٹ فارمز کے مقابلے میں آ گئی ہے، جو کئی برسوں سے اسمارٹ عینکوں کو اپنی اہم مصنوعات کا حصہ بنانے پر کام کر رہی ہے۔ 

میٹا کی اسمارٹ عینکیں اس وقت ری بین اور اوکلے برانڈز کے تحت فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ گزشتہ سال 70 لاکھ سے زائد اسمارٹ عینکیں فروخت ہوئیں۔

ChatGPT Image 20 مايو 2026، 01 06 38 م
صارف سامنے موجود چیزوں، مقامات اور ماحول سے متعلق فوری معلومات حاصل کر سکے گا

گوگل کی اسمارٹ عینک کو گوگل سرچ انجن، ڈیجیٹل نقشوں، ای میل اور دیگر خدمات تک براہ راست رسائی کا فائدہ بھی حاصل ہوگا، جس سے اسے مسابقتی برتری مل سکتی ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپل بھی کئی برسوں سے اپنی نئی اسمارٹ عینک تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔