ایک بار چارج
کرنے پر ڈیوائس
7 دن تک
چل سکتی ہے
اسی طرح AMOLED اسکرین نہ ہونے کی وجہ سے بیٹری بھی زیادہ دیر تک چلتی ہے اور یہ ڈیوائس ایک بار چارج کرنے پر تقریباً 7 دن تک کام کر سکتی ہے تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ روایتی اسمارٹ واچ نہیں ہے۔ ڈیوائس سے حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا صرف Fitbit ایپ میں فون کے ذریعے دیکھا جا سکے گا، یعنی فون کا ڈیوائس سے جڑا رہنا ضروری ہوگا۔
Fitbit Air خود سے کوئی لائیو یا فوری معلومات نہیں دکھاتا بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ مسلسل اور خاموشی سے صحت سے متعلق ڈیٹا جمع کرتا رہے، حتیٰ کہ نیند کے دوران بھی۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں بلٹ اِن GPS موجود نہیں لہٰذا لوکیشن ٹریکنگ کے لیے اسے فون پر انحصار کرنا پڑے گا۔
2- تمام فیچرز مفت نہیں
صارفین کو بنیادی صحت اور فٹنس فیچرز استعمال کرنے کے لیے اضافی فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی کیونکہ زیادہ تر سہولیات گوگل اکاؤنٹ کے ذریعے مفت دستیاب ہیں۔
یہ ڈیوائس اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کے ساتھ کام کرتی ہے، اس لیے iOS صارفین بھی اسے آسانی سے استعمال کر سکیں گے۔
ڈیوائس میں
بلٹ اِن GPS
موجود نہیں
لوکیشن ٹریکنگ
کے لیے فون
ضروری ہوگا
3- اس کے تین مختلف بینڈ دستیاب ہیں
بظاہر ایسا لگ سکتا ہے کہ یہ صرف مختلف رنگوں میں دستیاب ہے لیکن دراصل Fitbit Air کے 3 مختلف بینڈ ورژن بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ محدود ایڈیشنز بھی پیش کیے جائیں گے۔یہ بینڈ علیحدہ لوازمات کے طور پر فروخت کیے جائیں گے اور صارف اپنی پسند یا استعمال کے مطابق انہیں تبدیل کر سکے گا۔
Performance Loop Band بنیادی ورژن ہے، جو ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کیا گیا ہے، ہلکا اور ہوا دار ہے اور اس کی قیمت 35 ڈالر ہے۔
Active Band بھی 35 ڈالر میں دستیاب ہوگا، جو سلیکون سے تیار کیا گیا ہے اور پسینے و نمی کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے، خاص طور پر سخت ورزش کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ Elevated Modern Band کی قیمت 50 ڈالر رکھی گئی ہے، جو جدید اسٹائل اور عملی استعمال دونوں کو یکجا کرتا ہے۔
4- گوگل کا AI کوچ بعض اوقات ’ہیلوسینیشن‘ کرتا ہے
ابتدائی رپورٹس کے مطابق گوگل کا AI ہیلتھ کوچ بعض اوقات ہیلوسینیشن نامی مسئلے کا شکار ہو سکتا ہے، یعنی غلط یا فرضی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
ایپ میں موجود ورچوئل ہیلتھ کوچ، جو چیٹ بوٹ کی طرح کام کرتا ہے، بعض اوقات غلط مشورے دے سکتا ہے، جیسے غیرحقیقی ورزش پلان تجویز کرنا یا ایسی سرگرمیاں ظاہر کرنا جو صارف نے کی ہی نہ ہوں۔
یہ صورتحال اس سروس کی موجودہ تیاری اور قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات اٹھاتی ہے، جس کی وجہ سے کچھ صارفین ممکنہ طور پر بامعاوضہ سبسکرپشن لینے سے پہلے انتظار کو ترجیح دیں گے۔
اگرچہ یہ مسئلہ صرف اسی سروس تک محدود نہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دیگر نظام — بشمول ’جیمینائی‘ — بھی کبھی کبھار غلط معلومات دے سکتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ صحت اور جسمانی رہنمائی سے جڑا ہونے کی وجہ سے زیادہ حساس بن جاتا ہے۔
لہٰذا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس ٹیکنالوجی سے مکمل اجتناب کیا جائے بلکہ صحت اور فٹنس سے متعلق مشوروں کے معاملے میں محتاط رہنا زیادہ ضروری ہے۔