اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

گوگل کا نیا Fitbit Air خریدنے سے پہلے یہ 4 حقیقتیں جان لیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Fitbit Air
Fitbit Air میں کوئی اسکرین موجود نہیں، تمام ڈیٹا صرف موبائل ایپ پر دستیاب ہوگا

گوگل کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا Fitbit Air ایک ہلکا پھلکا فٹنس ٹریکر ہے، جس میں کوئی اسکرین موجود نہیں۔ 

اس کا ڈیزائن اور احساس ایک عام کلائی بینڈ جیسا ہے۔

تاہم اس ڈیوائس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ Google کے مصنوعی ذہانت کے نظام ’جیمینائی‘ پر انحصار کرتا ہے، جس کے ذریعے ’Google Health‘ ایپ براہِ راست ڈیوائس سے فٹنس ڈیٹا ٹریک کرتی ہے اور صارف کو ذاتی نوعیت کی رہنمائی اور کوچنگ فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ ڈیوائس کسی حد تک Whoop فٹنس ٹریکر جیسی دکھائی دیتی ہے، جو اپنے سادہ اور جدید ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہے۔

اگرچہ Fitbit Air کا ڈیزائن کافی خوبصورت اور جدید ہے، لیکن اسے خریدنے سے پہلے چند اہم باتیں جاننا ضروری ہیں۔ 

ٹیکنالوجی ویب سائٹ BGR کے مطابق یہ 4 نکات خاص طور پر اہم ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔

1- اس میں اسکرین موجود نہیں

ڈیوائس کے ڈیزائن کو دیکھ کر شاید یہ بات واضح ہو، لیکن Fitbit Air میں کسی قسم کی اسکرین موجود نہیں، حتیٰ کہ نوٹیفکیشن دکھانے کے لیے بھی نہیں۔

یقیناً کچھ صارفین کے لیے یہ مسئلہ نہیں ہوگا، کیونکہ کئی لوگ بغیر روشن اسکرین والے سادہ ڈیزائن کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایک بار چارج
کرنے پر ڈیوائس
7 دن تک
چل سکتی ہے

اسی طرح AMOLED اسکرین نہ ہونے کی وجہ سے بیٹری بھی زیادہ دیر تک چلتی ہے اور یہ ڈیوائس ایک بار چارج کرنے پر تقریباً 7 دن تک کام کر سکتی ہے تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ روایتی اسمارٹ واچ نہیں ہے۔ ڈیوائس سے حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا صرف Fitbit ایپ میں فون کے ذریعے دیکھا جا سکے گا، یعنی فون کا ڈیوائس سے جڑا رہنا ضروری ہوگا۔
Fitbit Air خود سے کوئی لائیو یا فوری معلومات نہیں دکھاتا بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ مسلسل اور خاموشی سے صحت سے متعلق ڈیٹا جمع کرتا رہے، حتیٰ کہ نیند کے دوران بھی۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں بلٹ اِن GPS موجود نہیں لہٰذا لوکیشن ٹریکنگ کے لیے اسے فون پر انحصار کرنا پڑے گا۔

2- تمام فیچرز مفت نہیں

صارفین کو بنیادی صحت اور فٹنس فیچرز استعمال کرنے کے لیے اضافی فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی کیونکہ زیادہ تر سہولیات گوگل اکاؤنٹ کے ذریعے مفت دستیاب ہیں۔

یہ ڈیوائس اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کے ساتھ کام کرتی ہے، اس لیے iOS صارفین بھی اسے آسانی سے استعمال کر سکیں گے۔

تاہم Google Health Premium سروس — جسے پہلے Fitbit Premium کہا جاتا تھا — استعمال کرنے کے لیے بامعاوضہ سبسکرپشن درکار ہوگی۔

یہ سروس خاص طور پر Google Health Coach فیچر سے جڑی ہوئی

 ہے، جو AI سے چلنے والا ذاتی ہیلتھ کوچ ہے۔ 

یہ صارف کی صحت سے متعلق معلومات کی بنیاد پر مشورے، ورزش کے منصوبے اور ذاتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

صارف اس AI ٹول کے ساتھ چیٹ بھی کر سکتا ہے، اپنے فٹنس اہداف شیئر کر سکتا ہے اور ورزش کا شیڈول ترتیب دے سکتا ہے۔

ان فیچرز تک رسائی کے لیے ماہانہ 9.99 ڈالر یا سالانہ 99.99 ڈالر کی فیس ادا کرنا ہوگی جبکہ Google AI Pro اور Google AI Ultra سبسکرائبرز کو یہ سہولت اپنے پیکج میں شامل ملے گی۔

ڈیوائس میں
بلٹ اِن GPS
موجود نہیں
لوکیشن ٹریکنگ
کے لیے فون
ضروری ہوگا

3- اس کے تین مختلف بینڈ دستیاب ہیں

بظاہر ایسا لگ سکتا ہے کہ یہ صرف مختلف رنگوں میں دستیاب ہے لیکن دراصل Fitbit Air کے 3 مختلف بینڈ ورژن بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ محدود ایڈیشنز بھی پیش کیے جائیں گے۔یہ بینڈ علیحدہ لوازمات کے طور پر فروخت کیے جائیں گے اور صارف اپنی پسند یا استعمال کے مطابق انہیں تبدیل کر سکے گا۔
Performance Loop Band بنیادی ورژن ہے، جو ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کیا گیا ہے، ہلکا اور ہوا دار ہے اور اس کی قیمت 35 ڈالر ہے۔
Active Band بھی 35 ڈالر میں دستیاب ہوگا، جو سلیکون سے تیار کیا گیا ہے اور پسینے و نمی کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے، خاص طور پر سخت ورزش کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ Elevated Modern Band کی قیمت 50 ڈالر رکھی گئی ہے، جو جدید اسٹائل اور عملی استعمال دونوں کو یکجا کرتا ہے۔

4- گوگل کا AI کوچ بعض اوقات ’ہیلوسینیشن‘ کرتا ہے

ابتدائی رپورٹس کے مطابق گوگل کا AI ہیلتھ کوچ بعض اوقات ہیلوسینیشن نامی مسئلے کا شکار ہو سکتا ہے، یعنی غلط یا فرضی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

ایپ میں موجود ورچوئل ہیلتھ کوچ، جو چیٹ بوٹ کی طرح کام کرتا ہے، بعض اوقات غلط مشورے دے سکتا ہے، جیسے غیرحقیقی ورزش پلان تجویز کرنا یا ایسی سرگرمیاں ظاہر کرنا جو صارف نے کی ہی نہ ہوں۔

یہ صورتحال اس سروس کی موجودہ تیاری اور قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات اٹھاتی ہے، جس کی وجہ سے کچھ صارفین ممکنہ طور پر بامعاوضہ سبسکرپشن لینے سے پہلے انتظار کو ترجیح دیں گے۔

اگرچہ یہ مسئلہ صرف اسی سروس تک محدود نہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دیگر نظام — بشمول ’جیمینائی‘ — بھی کبھی کبھار غلط معلومات دے سکتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ صحت اور جسمانی رہنمائی سے جڑا ہونے کی وجہ سے زیادہ حساس بن جاتا ہے۔

لہٰذا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس ٹیکنالوجی سے مکمل اجتناب کیا جائے بلکہ صحت اور فٹنس سے متعلق مشوروں کے معاملے میں محتاط رہنا زیادہ ضروری ہے۔