ٹرمپ موبائل کا متنازع اور طویل انتظار کے بعد متعارف کرایا جانے والا اسمارٹ فون ’T1‘بالآخر صارفین تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں
کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ پہلے سے بکنگ کرانے والے صارفین کو اس ہفتے فون کی ترسیل شروع کر دی جائے گی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹ اوبرائن نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ فون کی ترسیل رواں ہفتے سے شروع ہو رہی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ تمام پری آرڈر مکمل کرنے کے لیے چند ہفتوں کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کی تفصیلات ای میل کے ذریعے دی جائیں گی۔
طلب کی نوعیت اور اعداد و شمار کا ابہام
کمپنی نے دی ورج کے ذریعے جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فون کے لیے غیر معمولی مانگ دیکھی گئی ہے، تاہم کسی بھی مصدقہ اعداد و شمار کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ ماضی میں 5 لاکھ 90 ہزار آرڈرز کی خبریں سامنے آئی تھیں جو غیر مصدقہ ثابت ہوئیں۔
میڈ اِن امریکا کا دعویٰ اور حقیقت
منصوبے کے آغاز میں فون کو مکمل امریکی ساختہ قرار دیا گیا تھا، تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ فون صرف میامی میں اسمبل کیا جا رہا ہے۔
اس کے لیے مستقبل میں امریکی پرزوں کے استعمال کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن ایشیائی سپلائی چین کے دباؤ کے باعث یہ عمل مشکل دکھائی دیتا ہے۔
شرائط و ضوابط میں تبدیلی پر تحفظات
گزشتہ دنوں کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر شرائط تبدیل کرتے ہوئے پری آرڈرز کو قابلِ تبدیلی ڈپازٹ قرار دیا، جس سے قیمت میں ردوبدل یا منصوبے کی منسوخی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی کچھ آرڈرز کی منسوخی کی غیر مصدقہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں سخت مقابلہ
T1 فون کی قیمت 499 ڈالر رکھی گئی ہے، لیکن اسے سام سنگ اور نتھنگ جیسی بڑی کمپنیوں کے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ تکنیکی تفصیلات میں ابہام اور بار بار تاخیر کے بعد اس کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی کارکردگی پر ہوگا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ موبائل کا یہ منصوبہ اپنے افتتاحی مرحلے ہی میں متعدد چیلنجز سے گزر چکا ہے۔
کمپنی کی ساکھ کا اصل امتحان اب صارفین کے ہاتھوں میں پہنچنے والے ہینڈ سیٹ کا معیار اور کارکردگی طے کرے گی، جو اس عالمی مارکیٹ میں کمپنی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔