چین اور امریکا کے درمیان تجارتی و ٹیکنالوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے مگر دونوں ممالک اب بھی عالمی معیشت کے مرکز ہیں۔
دونوں کی مشترکہ معیشت دنیا کی 42.8 فیصد جی ڈی پی پر مشتمل ہے جبکہ باہمی تجارت سینکڑوں ارب ڈالر تک برقرار ہے۔
چپس، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات، بیٹریز اور توانائی کی سپلائی چین پر جاری مقابلہ اب عالمی طاقت، سرمایہ کاری اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
چین نے نایاب
معدنیات اور
گریفائٹ برآمدات
محدود کر دیں
چین امریکا کو کیا فروخت کرتا ہے؟
2024 میں امریکا نے چین سے 140.5 ارب ڈالر کی الیکٹرانک مصنوعات درآمد کیں اور اس شعبے میں امریکی درآمدات کا 20.9 فیصد حصہ چین سے آیا۔
اسی سال چین نے امریکا کو 92.5 ارب ڈالر کی مشینری، بوائلرز، ری ایکٹرز اور مکینیکل آلات برآمد کیے، جو ظاہر کرتا ہے کہ تعلق صرف صارف اشیا تک محدود نہیں بلکہ صنعتی سپلائی چین سے بھی جڑا ہوا ہے۔
چین نے امریکا کو 31.7 ارب ڈالر کا فرنیچر، لائٹس اور تیار شدہ عمارتیں، 26.9 ارب ڈالر کے کھلونے اور کھیلوں کا سامان، جبکہ 23.7 ارب ڈالر کی پلاسٹک مصنوعات برآمد کیں۔
بیٹریوں کی برآمدات تقریباً 16.4 ارب ڈالر رہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت سے براہ راست منسلک ہیں۔
امریکا چین کو کیا فروخت کرتا ہے؟
2024 میں امریکا نے چین کو 143.2 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جو 2025 میں کم ہو کر 106.3 ارب ڈالر رہ گئیں۔
امریکی برآمدات میں سب سے اوپر مائع گیس اور سویابین شامل تھے، جن کی مالیت بالترتیب 13.5 ارب اور 12.5 ارب ڈالر رہی۔
امریکا نے 2024 میں چین کو 9.7 ارب ڈالر کی چپس بھی برآمد کیں۔
اس کے علاوہ مشینری، ہوائی جہاز، طبی و آپٹیکل آلات اور ٹیکنالوجی مصنوعات بھی امریکی برآمدات میں شامل رہیں۔
امریکی تجارتی خسارہ
2025 میں چین کے ساتھ امریکی تجارتی خسارہ 202.1 ارب ڈالر رہا کیونکہ امریکا نے چین سے 308.4 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ صرف 106.3 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔
یہ خسارہ 2022 میں 382.3 ارب ڈالر، 2023 میں 279.6 ارب، 2024 میں 295.5 ارب، اور پھر 2025 میں کم ہو کر 202.1 ارب ڈالر رہ گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سیاسی تقاریر میں اس خسارے کو اکثر امریکی ملازمتوں کے نقصان سے جوڑتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت نے متعدد ٹیرف نافذ کئے۔
سرمایہ کاری: کھلے پن سے احتیاط تک
2024 میں امریکا میں چینی براہ راست سرمایہ کاری 40 ارب ڈالر رہی، جو 2020 کے 52.7 ارب ڈالر سے 24 فیصد کم ہے۔
دوسری طرف چین میں امریکی سرمایہ کاری 2024 میں 122.9 ارب ڈالر رہی، جو 2020 میں 116.5 ارب ڈالر تھی، تاہم امریکی کمپنیاں اب زیادہ محتاط ہو چکی ہیں۔
دونوں ممالک کی
تجارت اب بھی
سینکڑوں ارب
ڈالر پر قائم
واشنگٹن نے مصنوعی ذہانت، چپس اور کوانٹم کمپیوٹنگ سے متعلق چینی سرمایہ کاری پر پابندیاں یا نگرانی بڑھا دی ہے، جبکہ چین بھی ڈیٹا، معدنیات اور ٹیکنالوجی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔
چین نے اعلان کیا کہ 2025 میں اس کے ہاں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری 747.69 ارب یوان (106.92 ارب ڈالر) رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.5 فیصد کم ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق 2024 میں بیٹری سیلز بنانے کی عالمی صلاحیت 3 ٹیراواٹ گھنٹے سے تجاوز کر گئی، جس میں تقریباً 85 فیصد صلاحیت چین میں موجود ہے۔2023 میں چین نے دنیا کی 65 فیصد لیتھیم ریفائننگ، 75 فیصد کوبالٹ ریفائننگ، اور 90 فیصد سے زیادہ گریفائٹ ریفائننگ پر کنٹرول رکھا۔
یہ تمام معدنیات بیٹریز، الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ایجنسی کے مطابق چین اب بھی سولر پینلز، بیٹریز اور ونڈ ٹربائنز جیسی ٹیکنالوجیز کی سب سے کم لاگت والی پیداوار کا مرکز ہے، جبکہ امریکا میں ان کی تیاری کی لاگت بعض شعبوں میں چین کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔
چپس اور معدنیات کی جنگ
امریکا نے دسمبر 2024 میں چین کی جدید چپس بنانے کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے نئی پابندیاں نافذ کیں، جن میں 24 اقسام کے سیمی کنڈکٹر آلات، 3 قسم کے سافٹ ویئر ٹولز، اور 140 اداروں کو بلیک لسٹ کرنا شامل تھا۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال کو روکنے کے لیے ضروری ہیں، اس لیے چپس اب صرف تجارتی مصنوعات نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہتھیار بن چکی ہیں۔
اس کے جواب میں چین نے نایاب معدنیات، گریفائٹ، گیلیم اور جرمینیم کی برآمدات پر سخت نگرانی اور لائسنسنگ نظام نافذ کر دیا۔
دنیا پر اثرات
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عالمی ترقی کو کمزور کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق امریکا اور چین ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑی منڈیاں ہیں۔ امریکا نے 1.8 ٹریلین ڈالر جبکہ چین نے 1.3 ٹریلین ڈالر کی برآمدات جذب کیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تبدیلی صرف اشیا کے راستے نہیں بدلتی بلکہ جہاز رانی، بندرگاہوں، شپنگ ریٹس اور دنیا بھر کی فیکٹریوں کے شیڈول بھی متاثر ہوتے ہیں۔
چین کے پاس فروری 2026 تک تقریباً 693.3 ارب ڈالر کے امریکی ٹریژری بانڈز موجود تھے، جو ایک سال قبل 784.3 ارب ڈالر تھے۔
بشکریہ: الجزیرہ نیٹ ورک