گزشتہ سال کے وسط سے تجارتی جنگ اور محصولات کے تنازع کی وجہ سے چین نے امریکی تیل کی درآمد روک دی تھی، جبکہ 2023 میں یہ درآمدات یومیہ 5 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔
2024 میں امریکہ سے چین کی تیل و گیس کی درآمدات کی مجموعی مالیت 8 ارب 40 کروڑ ڈالر رہی تھی اور ٹرمپ اب اسے بحال کرکے 87 ارب ڈالر کا یہ تجارتی خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں جو رواں سال کے آغاز سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں شین شیو کا کہنا ہے کہ چین ایرانی تیل کو مکمل طور پر امریکی تیل سے تبدیل نہیں کرے گا۔
چین کی پالیسی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہے، جس کے تحت وہ امریکہ، خلیجی ممالک اور ایران سے بیک وقت تیل درآمد کرتا رہے گا۔
عسکری ماہر رچرڈ وائٹز کے مطابق امریکی تیل کی خریداری ایک بڑے معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے۔