اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

کیا چین امریکی کی ٹیکنالوجی کے لیے تہران کے تیل کی قربانی دے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بیجنگ میں امریکی اور چینی صدور کی ملاقات اور ایرانی تیل کی ترسیل کا مسئلہ
چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے (فوٹو؛ اے آئی جنریٹڈ)

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک اہم سربراہی ملاقات کا دور جاری ہے۔

مزید پڑھیں

اس اہم ملاقات کا مرکز آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والا توانائی کا سنگین بحران اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ 

اعداد و شمار کے مطابق چین کی 55 فیصد تیل کی درآمدات اور 25 

فیصد مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے بیجنگ اس بحرانی صورتحال کا فوری حل تلاش کرنے کا خواہشمند ہے۔

واشنگٹن اس موقع کو بیجنگ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ ایرانی تیل کی خریداری کم کرے۔ 

چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے جو روزانہ اوسطاً 14 لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے اور یہ ایران کی کل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتا ہے۔

مذاکرات کا مقصد امریکی تیل و گیس کی چین کو دوبارہ فروخت بھی ہے۔

گزشتہ سال کے وسط سے تجارتی جنگ اور محصولات کے تنازع کی وجہ سے چین نے امریکی تیل کی درآمد روک دی تھی، جبکہ 2023 میں یہ درآمدات یومیہ 5 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔
2024 میں امریکہ سے چین کی تیل و گیس کی درآمدات کی مجموعی مالیت 8 ارب 40 کروڑ ڈالر رہی تھی اور ٹرمپ اب اسے بحال کرکے 87 ارب ڈالر کا یہ تجارتی خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں جو رواں سال کے آغاز سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چین کی ایک جامعہ کے محقق شین شیو کا کہنا ہے کہ بیجنگ کسی ملک پر اپنی شرائط مسلط نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ چین تمام فریقین کے سیکیورٹی خدشات کا احترام کرتا ہے اور خطے میں فوجی مداخلت کے بجائے مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک کے ذریعے استحکام لانے کا حامی ہے۔

شین شیو نے مزید کہا کہ امریکی حملوں سے قبل آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے مکمل کھلا تھا۔ 

اُن کا واضح موقف ہے کہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی اور افراتفری کی اصل وجہ امریکی اقدامات ہیں، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔

بیجنگ میں امریکی اور چینی صدور کی ملاقات اور ایرانی تیل کی ترسیل کا مسئلہ
امریکی صدر ٹرمپ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ مصافحہ کررہے ہیں (فوٹو؛ ایکس)

اُدھر تہران کے اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کے محقق عباس اصلانی کے مطابق واشنگٹن چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ ایرانی تیل کی فروخت روک کر تہران پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ اپنے علاقائی موقف سے پیچھے ہٹ جائے۔

عباس اصلانی کا کہنا ہے کہ چین ایران پر امریکی دباؤ کو ایک مثال کے طور پر دیکھتا ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کا دباؤ بحیرہ جنوبی چین یا تائیوان کے معاملے پر خود چین کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے وہ محتاط ہے۔

ایرانی تجزیہ کار نے واضح کیا کہ تہران دباؤ میں آکر پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ جنگی حالات میں اپنے موقف کو مزید سخت کرے گا۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی مطالبات مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہیں، جسے ایرانی قیادت کسی بھی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

چین ایرانی تیل کو امریکی تیل سے تبدیل نہیں کریگا

توانائی کے شعبے میں شین شیو کا کہنا ہے کہ چین ایرانی تیل کو مکمل طور پر امریکی تیل سے تبدیل نہیں کرے گا۔
چین کی پالیسی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہے، جس کے تحت وہ امریکہ، خلیجی ممالک اور ایران سے بیک وقت تیل درآمد کرتا رہے گا۔
عسکری ماہر رچرڈ وائٹز کے مطابق امریکی تیل کی خریداری ایک بڑے معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے۔

اس کے بدلے چین کو امریکی محصولات میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی بشمول الیکٹرانک چپس تک رسائی مل سکتی ہے، جو دونوں ممالک کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔

دوسری جانب عباس اصلانی نے خبردار کیا کہ امریکی اثر و رسوخ والے راستوں سے تیل کی سپلائی چین کے لیے ایک اسٹریٹجک جال ثابت ہو سکتی ہے۔