امریکہ کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی ’اسٹار کیچر‘ نے خلا میں دنیا کے پہلے برقی گرڈ کی تعمیر کے لیے 65 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔
مزید پڑھیں
فلوریڈا میں قائم اس کمپنی کا مقصد مدار میں موجود سیاروں اور خلائی آلات کو لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی فراہم کرنا ہے۔
خلا میں بجلی کا نظام کیسے کام کرے گا؟
اسٹار کیچر کے منصوبے میں خلائی مدار میں ’پاور نوڈز‘ نصب کیے جائیں گے جو شمسی توانائی جمع کریں گے۔
تک پہنچائیں گی اور وصول کنندہ سیٹلائٹس اسے اپنے روایتی سولر پینلز کے ذریعے جذب کر لیں گے۔
کمپنی کے شریک بانی اینڈریو راش کے مطابق خلائی آلات اکثر زمین کے سائے میں آنے پر توانائی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اب یہ نیا نظام سیاروں کی کارکردگی کو 2 سے 10 گنا تک بڑھانے کے ساتھ ان کی عمر کو بھی طویل کر دے گا۔
کامیاب تجربات اور مستقبل کی پیش رفت
کمپنی نے مارچ 2025 میں فلوریڈا کے ایور بینک اسٹیڈیم میں 90 میٹر کے فاصلے پر کامیابی سے بجلی منتقل کی۔
اس کے ساتھ ساتھ نومبر 2025 میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں 1.1 کلو واٹ بجلی منتقل کر کے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (DARPA) کا پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اسٹار کیچر رواں سال کے آخر میں خلا میں اپنا پہلا باقاعدہ تجربہ کرے گی۔
کمپنی پہلے ہی لوفٹ آربیٹل اور آسٹرو ڈیجیٹل جیسی نجی کمپنیوں سمیت امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ 7 تجارتی معاہدے کر چکی ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافے کا واضح اشارہ ملتا ہے۔
ابھرتی ہوئی خلائی معیشت اور توانائی کے تقاضے
اسٹار کیچر کی نظریں اب مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور موبائل مواصلات پر ہیں۔
مستقبل میں گوگل اور اسپیس ایکس جیسے ادارے بھی خلائی ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر غور کر رہے ہیں، جن کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوگی، جسے یہ لیزر گرڈ فراہم کر سکے گا۔
دوسری جانب ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند کے جنوبی قطب پر انسانی اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
یہ ٹیکنالوجی چاند کے تاریک حصے جیسے ’شیکلٹن کریٹر‘ میں موجود خلائی گاڑیوں کو مسلسل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
خلا میں بجلی کی ترسیل کا یہ تصور ایک جدید خلائی بنیادی ڈھانچے کی بنیاد رکھتا ہے۔
اگر یہ تجربات مکمل طور پر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خلا میں انسانی سرگرمیوں کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ خلائی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔