اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

500 ڈالر فی قبر: اہلِ غزہ کو درپیش مصائب کی چونکا دینے والی داستانیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ میں تدفین کے مصائب اور عارضی قبرستانوں کا منظر
مجبوری میں ایک ہی قبر کو بار بار کھود کر اس میں ایک سے زائد شہدا کو دفن کیا جا رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیلی جارحیت نے غزہ میں انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ تدفین کے عمل کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھیں

غزہ کے شہری اپنے پیاروں کو دفنانے کے لیے سخت جدوجہد کررہے ہیں کیونکہ قبرستانوں میں جگہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

غزہ شہر کے وسط میں واقع شیخ رضوان قبرستان کے قریبی رہائشی شیخ حمدی کے مطابق اب یہاں آدھا میٹر جگہ بھی باقی نہیں رہی۔ شہر میں صرف شیخ رضوان اور المعمدانی نامی 2 بڑے قبرستان ہیں جو شہدا کی بڑھتی تعداد کے باعث مکمل بھر چکے ہیں۔

جگہ کی شدید قلت کے باعث ایک قبر کی قیمت 1200 سے 1400 شیکل یعنی تقریباً 480 سے 520 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مجبوری میں ایک ہی قبر کو بار بار کھود کر اس میں ایک سے زائد شہدا کو دفن کیا جا رہا ہے۔

قبرستانوں تک رسائی ناممکن ہونے اور بھاری اخراجات کے باعث سیکڑوں خاندانوں نے اپنے گھروں کے صحن اور باغات کو قبرستانوں میں بدل دیا ہے۔ 

یہ مظلوم فلسطینی اپنے بچوں اور پوتوں کو گھروں ہی میں دفن کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ قبرستانوں تک پہنچنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔

اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ میں سیمنٹ اور اینٹوں جیسے تعمیراتی مواد کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

غزہ میں تدفین کے مصائب اور عارضی قبرستانوں کا منظر
ٹین کی چادروں سے ڈھکی ان قبروں کو جانور آسانی سے کھود لیتے ہیں، (فوٹو: انٹرنیٹ)

شہری ملبے اور مٹی کا استعمال کر کے قبریں تیار کر رہے ہیں تاکہ شہدا کی حرمت برقرار رکھی جا سکے لیکن یہ طریقہ کار انتہائی عارضی اور غیر محفوظ ہے۔

ان عارضی قبروں کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے آوارہ کتے لاشوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ٹین کی چادروں سے ڈھکی قبروں کو جانور آسانی سے کھود لیتے ہیں اور شہدا کی باقیات سڑکوں پر بکھر جاتی ہیں جو کہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی حصے میں واقع البطش جیسے کئی قبرستانوں کو بلڈوزروں کے ذریعے جان بوجھ کر تباہ کر دیا ہے۔
اس کارروائی سے قبروں کے نشانات مٹ گئے ہیں اور والدین اب اپنے بچوں کی آخری آرام گاہوں کی شناخت کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے 59 فیصد سے زائد رقبے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور وہ شہری ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

فلسطینیوں کو نہ صرف زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی اپنی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 72 ہزارسے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق یہ اعدادوشمار مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ تدفین کے لیے زمین اور وسائل کی دستیابی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔