امریکی بحری ناکہ بندی کے ایک ماہ سے زائد گزرنے کے بعد تہران کی مارکیٹوں میں صورتحال تشویشناک ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اگرچہ دکانیں سامان سے بھری نظر آتی ہیں، مگر صارفین قوتِ خرید میں کمی اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
معاشی چیلنجز کی وجہ سے درآمدی اشیا اب لگژری بن چکی ہیں جن کے نرخ براہ راست ڈالر کی شرح سے جڑ گئے ہیں۔
ایران میں فرنیچر اور الیکٹرانک آلات کی مارکیٹوں میں گاہکوں کی تعداد
نہ ہونے کے برابر ہے۔ دکان داروں کا کہنا ہے کہ جنگ اور ناکہ بندی کے باعث درآمدی سامان کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔
بازاروں میں خریدار اب اشیا کی قیمت پوچھنے سے بھی گریز کرتے ہیں کیونکہ سب کچھ ان کی پہنچ سے دُور ہو چکا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق جنگی حالات کے پیشِ نظر بچت کرنا مجبوری بن گیا ہے۔
خوراک اور بنیادی ضروریات کی گرانی
تہران میں روٹی، پولٹری اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر کی بیکریوں پر حکومتی کنٹرول کے باوجود نجی شعبے میں قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔
اسی طرح نقل و حمل اور توانائی کے اخراجات بڑھنے سے دکان داروں نے نقصان پورا کرنے کے لیے اشیائے خورونوش کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔
قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
ایک تجزیے کے مطابق چاول کی قیمتوں میں 208 فیصد اور تیل کی قیمتوں میں 308 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
ایران میں گروسری اسٹورز پر جہاں کچھ اشیا کی قیمتیں مستحکم ہیں، وہیں گوشت اور دیگر ضروری اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، تاہم، پاستا اور ڈبہ بند اشیا تاحال مارکیٹ میں مناسب قیمت پر دستیاب ہیں۔
حکومتی سطح پر تشویش
مہنگائی کی لہر کے پیشِ نظر ایرانی پارلیمنٹ نے زرعی جہاد (محکمہ زراعت) کے وزیر کے ساتھ ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
رکنِ پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے قیمتوں میں اضافے کو ایک حد تک جنگ کا نتیجہ قرار دیا، تاہم انہوں نے اندرونی عناصر پر ناجائز منافع خوری کا الزام لگاتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ناکہ بندی: لاگت میں اضافے کی بنیادی وجہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبی گزرگاہوں کی بندش سے نقل و حمل، انشورنس اور ایکسچینج ریٹ کی مشکلات نے لاگت کو دگنا کر دیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرو کیمیکل اور اسٹیل کے شعبوں میں پیداوار رُکنے سے معیشت کے تمام پہلو متاثر ہوئے ہیں، جس سے سپلائی میں کمی اور ڈالر کی بڑھتی قیمت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کاغذی ارب پتی اور حقیقی غربت
تہران یونیورسٹی کے پروفیسر البرٹ باغزیان نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ کاغذی ارب پتی بن چکا ہے۔
جائیدادوں کی قیمتیں بڑھنے سے وہ امیر تو نظر آتے ہیں، مگر حقیقی آمدنی کم ہونے سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جنگ زدہ ممالک کی طرح مارکیٹ کا نظم و نسق سنبھالے۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکی ناکہ بندی محض ایک بیرونی دباؤ نہیں، بلکہ اس نے ایرانی معیشت کے اندرونی ڈھانچے کو بھی غیر مستحکم کر دیا ہے۔
اگر حکومت نے فوری طور پر مارکیٹ میں مداخلت نہ کی تو مہنگائی کی یہ لہر عام شہریوں کے لیے معاشی بقا کا بحران پیدا کر دے گی۔