اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

مکہ ہارٹ سینٹر: 72 گھنٹوں میں 9 حجاج کی جانیں بچالی گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مکہ ہارٹ سینٹر
روبوٹک سرجری، اوپن ہارٹ آپریشن اور جدید کیتھیٹر علاج سے حجاج کو نئی زندگی مل گئی (فوٹو: سبق)

مکہ مکرمہ ہیلتھ کلسٹر کے رکن کنگ عبد اللہ میڈیکل سٹی کے ہارٹ سینٹر نے 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 9 حجاج کی جانیں بچا لیں، جنہیں انتہائی تشویشناک اور پیچیدہ قلبی امراض کی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ 

ان مریضوں کے لیے فوری اور جدید طبی مداخلت کی گئی، جس میں روبوٹک ہارٹ سرجری، اوپن ہارٹ آپریشنز اور انتہائی باریک بینی سے کی جانے والی علاجی کیتھیٹرائزیشن شامل تھیں۔ 

یہ تمام خدمات ایک ہمہ وقت فعال مربوط طبی نظام کے تحت مہیا کی گئیں، جو حجاج کی خدمت کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق میڈیکل سٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مریضوں کی حالتوں میں شدید ہارٹ اٹیک، کورونری شریانوں میں پیچیدہ اور متعدد رکاوٹیں، دل کے پٹھوں کی کمزوری اور خون کی گردش و دل کی برقی سرگرمی کو متاثر کرنے والی پیچیدگیاں شامل تھیں۔ ان تمام کیسز میں پیچیدگیوں کو کم کرنے اور مریضوں کی جان بچانے کے لیے جدید عالمی طبی پروٹوکولز کے مطابق فوری اقدامات کیے گئے۔

بیان کے مطابق ان مریضوں میں ملائیشیا، فلپائن، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا اور بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے حجاج شامل تھے۔ 

دل کے کیتھیٹر ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ بعض مریضوں میں دل کی مرکزی بائیں شریان میں خطرناک حد تک تنگی اور اینٹیریئر ڈیسینڈنگ شریان میں مکمل بندش موجود تھی، جبکہ کئی مریض شدید کورونری شریانی امراض میں مبتلا تھے، جن کے لیے انتہائی جدید اور حساس طبی مداخلت ضروری تھی۔

روبوٹک اور اوپن
ہارٹ سرجریاں
کامیابی سے مکمل

طبی ٹیموں نے متعدد مریضوں پر جدید دل کی سرجریاں انجام دیں، جن میں فوری اوپن ہارٹ آپریشنز کے ذریعے کورونری شریانوں کی بائی پاس سرجری شامل تھی۔
اس کے علاوہ روبوٹک سرجری کی جدید تکنیک استعمال کی گئی، جس میں جسم میں چھوٹے سوراخوں کے ذریعے آپریشن کیا جاتا ہے، جس سے درد کم ہوتا ہے، صحت یابی تیز ہوتی ہے اور اسپتال میں قیام کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے، تاکہ مریض مناسک حج مکمل کر کے محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس جا سکیں۔
اسی طرح کیتھیٹرائزیشن ٹیموں نے بھی فوری علاجی مداخلت کرتے ہوئے دوائی والے اسٹنٹس نصب کیے، خطرناک بند شریانوں کو کھولا اور ریکارڈ وقت میں دل کی خون رسانی بحال کی۔
بعض پیچیدہ کیسز میں دورانِ علاج خون کی گردش اور مصنوعی تنفس کے لیے جدید سپورٹ ڈیوائسز بھی استعمال کی گئیں۔

میڈیکل سٹی نے مزید بتایا کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کو ڈسچارج کے بعد اسمارٹ ریموٹ مانیٹرنگ سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے، جس کے تحت اسمارٹ واچ کے ذریعے ان کے دل کی دھڑکن اور دیگر حیاتیاتی اشاریوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ 

یہ نظام مریضوں کی سلامتی کو بہتر بنانے اور پیچیدگیوں کے امکانات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔