امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی اہم سربراہی ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ’شاندار تجارتی معاہدوں‘ کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق چین نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی جبکہ ایران کو فوجی مدد نہ دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ملاقات میں تائیوان، مصنوعی ذہانت، بوئنگ طیاروں، تیل اور سویابین سمیت کئی بڑے عالمی اور اقتصادی معاملات زیر بحث آئے۔
ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ شی نے کہا کہ وہ فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے، انہوں نے یہ بات بالکل واضح انداز میں کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر میں کسی قسم کی مدد کر سکوں تو مجھے خوشی ہوگی۔
چینی وزارت خارجہ نے بھی جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جامع اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عالمی برادری کے مطالبات کے مطابق سمندری راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔
گرمجوش مصافحوں اور استقبالی تقریبات کے باوجود شی جن پنگ نے ایک واضح انتباہ بھی دیا۔
چینی صدر نے کہا کہ تائیوان کے معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالنا بیجنگ اور واشنگٹن کو ’تصادم‘ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا غیر ملکی خریدار ہے، ماضی میں ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے سے قبل محدود مقدار میں امریکی تیل بھی خرید چکا ہے۔
اسی طرح چین نے امریکی سویابین کی خریداری میں نمایاں کمی کرتے ہوئے زیادہ تر انحصار برازیل پر منتقل کر دیا تھا۔
دریں اثنا، بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ہم چینی حکام کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق حفاظتی ضمانتوں پر بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے پاس انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ موجود ہے، لیکن وہ اب بھی امریکا سے کافی پیچھے ہے۔
ان کے مطابق بیجنگ اور واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے ایک پروٹوکول تیار کریں گے، خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ غیر ریاستی عناصر ان ماڈلز تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔
تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی انتظامیہ جدت کا گلا گھونٹنا نہیں چاہتی، اور وہ اب تک بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے پیش کیے گئے ماڈلز سے بہت خوش ہیں۔