ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے امریکی حکام نے سائبر جاسوسی کے خوف سے اسمارٹ فونز کا استعمال محدود ترک دیا جبکہ کئی اہلکار کاغذی نوٹس اور پرنٹ شدہ دستاویزات پر واپس آگئے۔
یہ اقدامات امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ملاقات میں ایران جنگ، توانائی، تجارت، الیکٹرانک چپس اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات جیسے پیچیدہ معاملات زیر بحث آئیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں چین کو امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی چیلنج قرار دیا تھا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ جنگوں سے بچنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو حکمت عملی کے تحت سنبھالنا ضروری ہے۔
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے باعث موجودہ سربراہی اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، خصوصاً اس لیے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے اور اس کی معیشت توانائی اور بحری تجارت کے استحکام پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔