اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

چین کے خوف سے ٹرمپ ٹیم نے اسمارٹ فونز ترک کر دیئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا چین سائبر جاسوسی
امریکی وفد کو ذاتی فون اور لیپ ٹاپ چین لے جانے سے روک دیا گیا

ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے امریکی حکام نے سائبر جاسوسی کے خوف سے اسمارٹ فونز کا استعمال محدود ترک دیا جبکہ کئی اہلکار کاغذی نوٹس اور پرنٹ شدہ دستاویزات پر واپس آگئے۔
یہ اقدامات امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے امریکی حکام کو اپنے موبائل فون اور اسمارٹ ڈیوائسز چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ سائبر جاسوسی کے خدشات کے باعث کئی اہلکار دوبارہ کاغذی دستاویزات اور نوٹس استعمال کرنے لگے۔

صدر ٹرمپ کا دورہ چین: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں

امریکی میڈیا کے مطابق وفد کے ارکان کو سخت سکیورٹی ہدایات دی گئیں کہ وہ اپنے ذاتی فون یا معمول کے لیپ ٹاپ بیجنگ نہ لائیں کیونکہ خدشہ تھا کہ ان ڈیوائسز کو ہیک کیا جا سکتا ہے یا ان میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب کیا جا سکتا ہے۔ 

بعض حکام کو محدود ڈیٹا والے عارضی فون استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ کئی نے اجلاسوں اور سفر کے دوران کاغذی نوٹس اور پرنٹ شدہ دستاویزات پر انحصار کیا۔

مزید پڑھیں

یہ اقدامات واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جو گزشتہ برسوں میں دونوں بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تنازع کے اہم ترین محاذوں میں شامل ہو چکی ہے۔

امریکا طویل عرصے سے چین پر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حساس انفراسٹرکچر کے خلاف سائبر

 جاسوسی کی کارروائیاں کرتا ہے، جبکہ بیجنگ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود امریکی سائبر حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران واشنگٹن نے قومی سلامتی اور ڈیٹا سکیورٹی خدشات کے نام پر چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جن میں ہواوے اور ٹک ٹاک شامل ہیں، پر سخت پابندیاں عائد کیں۔

ChatGPT Image 14 مايو 2026، 11 28 54 ص
تائیوان کو چین نے سب سے حساس مسئلہ قرار دے دیا

اس کے جواب میں چین نے غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نگرانی سخت کر دی اور مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا دی تاکہ امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جا سکے۔

یہ سخت سکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان انتہائی حساس سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ 

چین کے سائے میں
امریکی وفد نے
ٹیکنالوجی سے
ہاتھ کھینچ لیا

توقع کی جا رہی ہے کہ ملاقات میں ایران جنگ، توانائی، تجارت، الیکٹرانک چپس اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات جیسے پیچیدہ معاملات زیر بحث آئیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں چین کو امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی چیلنج قرار دیا تھا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ جنگوں سے بچنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو حکمت عملی کے تحت سنبھالنا ضروری ہے۔
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے باعث موجودہ سربراہی اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، خصوصاً اس لیے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے اور اس کی معیشت توانائی اور بحری تجارت کے استحکام پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

مبصرین کے مطابق اسمارٹ ڈیوائسز کے بجائے دوبارہ کاغذی دستاویزات کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اعتماد کی کمی انتہائی گہری ہو چکی ہے، حتیٰ کہ اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات میں بھی۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جاسوسی اب امریکا اور چین کے درمیان تجارت، توانائی، مصنوعی ذہانت اور عالمی اثر و رسوخ کی جنگ کا مستقل اور مرکزی حصہ بن چکی ہے۔