امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو بیجنگ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ 2 روزہ اہم ترین سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
مزید پڑھیں
یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارتی جنگ میں 6 ماہ قبل ہونے والے معاہدے کے بعد پہلی براہ راست گفتگو ہوگی۔
خطے کا یہ اہم ترین سربراہی اجلاس دراصل گزشتہ مارچ میں ہونا تھا لیکن ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت مشرق وسطیٰ کی جنگ کی
وجہ سے اندرونی عوامی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں خارجہ پالیسی میں کامیابی کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔
تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور واشنگٹن کی جوابی ناکابندی نے بیجنگ کی معیشت اور تیل کی درآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ چین اپنی ضرورت کا نصف تیل مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ بیجنگ پر زور دیں گے کہ وہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بین الاقوامی آپریشن کا حصہ بنے، جسے چین اب تک مسترد کرتا آرہا ہے۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ اس ملاقات میں تجارت اور نایاب معدنیات کے حصول سمیت تائیوان پر چین کے حق کو تسلیم کروانے کی کوشش کریں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے علیحدگی کی دھمکیوں نے امریکہ اور اس کے پرانے اتحادیوں میں دُوریاں پیدا کر دی ہیں۔
اس صورتحال میں ’جی ٹو‘ یعنی دو بڑی طاقتوں کے غیر رسمی اتحاد کا تصور دوبارہ زندہ ہو گیا ہے، جو عالمی مستقبل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ ’جی ٹو‘کا تصور 2005 میں ماہر معاشیات سی فرد برگسٹن نے پیش کیا تھا تاکہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں مل کر عالمی منڈیوں کے استحکام کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔
بعد ازاں سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں 2009 میں اس تصور کو تقویت ملی تھی جب تزویراتی مذاکرات شروع کیے گئے۔
برطانوی ماہر جینگ گو کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کو جی ٹو کا آغاز نہیں بلکہ ایک تزویراتی جائزہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ریڈ لائنز کو سمجھنے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تناؤ کو کھلی جنگ میں بدلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
لندن یونیورسٹی کے اسٹیو تسانگ کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان کسی تجارتی معاہدے کا امکان تو موجود ہے لیکن مکمل اتحاد مشکل ہے۔
دونوں رہنما اپنے ملک کو دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے مفادات کا ٹکراؤ رہے گا۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس وقت صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو 10 میں سے 112 نمبر دیتے ہوئے ’جی ٹو‘ کے طور پر پیش کیا تھا جس سے چین کی اہمیت واضح ہوئی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی طاقت امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
جان مینش کے مطابق واشنگٹن کے لیے بیجنگ کو ایک حقیقی ٹیکنالوجی اور فوجی شراکت دار کے طور پر قبول کرنا مشکل ہے، جس سے طویل مدتی تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔
چینی ماہر چیک یون چو کے مطابق صدر ٹرمپ ایک نفع خور شخصیت ہیں جو قلیل مدتی سودے بازی کو ترجیح دیتے ہیں۔
چین بھی جی ٹو کے بجائے اقوام متحدہ کے تحت کثیر قطبی عالمی نظام کا حامی ہے جہاں فیصلے کسی ایک یا دو طاقتوں کے بجائے عالمی برادری کرے۔
فی الوقت عالمی سطح پر جی ٹو کے تصور کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
یورپ، بھارت، جاپان اور برازیل جیسے ممالک کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کوئی بھی خفیہ معاہدہ ان کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انہیں عالمی فیصلوں سے الگ کر دے گا۔
اُدھر یورپی یونین نے نایاب معدنیات کے لیے امریکہ اور چین پر انحصار کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے کہ یورپ کو اپنی مارکیٹ بہتر بنانے کے لیے تیزی سے کام کرنا ہوگا تاکہ وہ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں پیچھے نہ رہ جائے۔
بھارت اور برازیل نے بھی اپنے تزویراتی اتحاد کو مضبوط کرتے ہوئے 2030 تک باہمی تجارت 30 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ترقی پذیر ممالک ایک ایسا عالمی نظام چاہتے ہیں جہاں انہیں انتخاب کی آزادی ہو اور وہ بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کا شکار نہ ہوں۔