موجودہ دور کی تیز رفتار زندگی اور وقت کی کمی کے باعث بہت سے لوگ روایتی کتابوں کے بجائے آڈیو بکس کا سہارا لے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
دنیا بھر میں اس وقت یہ سوال مسلسل زیر بحث ہے کہ کیا کتاب سُننا بھی پڑھنے جیسی افادیت اور ذہنی تسکین فراہم کرتا ہے؟
این پی آر اور ایپوس سروے کے مطابق صرف 51 فیصد بالغ افراد نے گزشتہ ماہ کتاب پڑھی، جس کی بڑی وجہ وقت کی قلت تھی۔
اسی دوران ہر 6 میں سے ایک شخص نے آڈیو بُک سنی، تاہم 40 فیصد افراد اسے مطالعہ ماننے سے انکاری ہیں۔
دماغی سرگرمی کا سائنسی جائزہ
نیورو سائنس جریدے میں 2019 کی تحقیق اور 2024 میں کمیونیکیشنز بائیو لوجی کے نتائج بتاتے ہیں کہ مطالعہ کرنے اور کتاب سننے کے دوران دماغ کے وہی حصے متحرک ہوتے ہیں۔
گویا دماغ معلومات اور زبان کو سمجھنے کے لیے دونوں صورتوں میں ایک جیسا عمل کرتا ہے۔
روایتی مطالعے کی اہمیت
ماہر نفسیات رابرٹ سٹرنبرگ کا کہنا ہے کہ روایتی مطالعہ گہری علمی صلاحیتیں دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتاب پڑھتے ہوئے الفاظ کی ساخت دیکھنا اور اہم پیراگراف تک دوبارہ رسائی حاصل کرنا معلومات کو دماغ میں بہتر انداز میں محفوظ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جو ایک بڑا بصری فائدہ ہے۔
فہم اور گہرائی میں فرق
2022 کے ایک تجزیے کے مطابق جو لوگ آڈیو بُکس کی رفتار کو کنٹرول نہیں کرتے، ان میں گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔
یعنی پڑھنے والا شخص مشکل حصوں پر رُک کر غور کر سکتا ہے، جبکہ سُننے والا راوی کی رفتار کے مطابق چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔
توجہ اور ملٹی ٹاسکنگ
اکثر لوگ ورزش یا ڈرائیونگ کے دوران آڈیو بُکس سنتے ہیں، جس سے توجہ بٹ جاتی ہے اور معلومات کا گہرائی سے ادراک مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ عادت کتاب کے پیچیدہ تصورات کو سمجھنے کے بجائے صرف سرسری معلومات حاصل کرنے تک محدود رہ جاتی ہے، جو سیکھنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔
کب، کون سا طریقہ بہتر ہے؟
تحقیق کے مطابق تفریحی کتب اور سفر کے دوران وقت گزارنے کے لیے آڈیو بُکس بہترین انتخاب ہیں۔
تاہم اگر آپ کسی پیچیدہ موضوع، علمی مواد یا ایسی تحریر کا مطالعہ کر رہے ہیں جسے یاد رکھنا ضروری ہو، تو روایتی مطالعہ ہی اب بھی سب سے زیادہ موثر ذریعہ ہے۔
ماہرین کے مطابق سائنسی مطالعات آڈیو بُکس ترک کرنے کا مشورہ نہیں دیتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ ہر میڈیم کا اپنا مقصد ہے۔
کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ مواد کی نوعیت اور اپنی ترجیحات کے مطابق مناسب ذریعہ منتخب کریں تاکہ علم کا حصول زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہو۔