اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

ہرمز میں زیرِسمندر انٹرنیٹ کیبلز: خلیجی ممالک کے خلاف نیا ایرانی ہتھیار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کا نقشہ اور ایرانی خطرات
(فوٹو: الجزیرہ ۔ ترجمہ: اوورسیز پوسٹ)

خلیج عرب اور آبنائے ہرمز کے گہرے پانیوں میں بچھی 7 بڑی انٹرنیٹ کیبلز اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایران کے لیے ایک نیا تزویراتی ہتھیار بن چکی ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق یہ ڈیجیٹل ڈھانچہ خلیجی ممالک کو ایشیا اور یورپ سے جوڑنے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان زیرِ سمندر کیبلز کو ایک اہم پریشر پوائنٹ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کیبلز توانائی کی ترسیل کی طرح حساس ہیں اور انہیں کسی بھی وقت سیاسی و دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس خطے سے گزرنے والے نظاموں میں ٹو افریقہ، ایشیا افریقہ یورپ-1، فالکن، فائبر ان گلف، جی بی آئی، عمران اور سی می وی-6 شامل ہیں۔

یہ تمام کیبلز آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے گزر کر مختلف ممالک میں لینڈنگ پوائنٹس تک پہنچتی ہیں۔

بحری نقشے پر آبنائے ہرمز کی ناکابندی اور 'شیڈو فلیٹ' کے خفیہ راستوں کی نشاندہی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرین کے مطابق عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب، عراق اور ایران کے ساحلوں پر ان کیبلز کی موجودگی اس پورے خطے کو ایک حساس ڈیجیٹل مرکز میں تبدیل کر دیتی ہے، جہاں معمولی مداخلت بھی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

عالمی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق یہ کیبلز عالمی مواصلات کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ 

اِن کے ذریعے نہ صرف انٹرنیٹ ٹریفک گزرتی ہے بلکہ مالیاتی لین دین، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور حکومتی رابطوں جیسے اہم ترین شعبے بھی انہی تاروں پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے حالیہ تجزیے میں آبنائے ہرمز کو ڈیجیٹل دنیا کی کمزور شہ رگ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے کے بڑے حصے کا انٹرنیٹ انہی تاروں سے جڑا ہے جو کسی بھی وقت تزویراتی کمزوری میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

ایرانی بیانیہ ان کیبلز
کو انفرااسٹرکچر کے
بجائے سیاسی دباؤ
قرار دیتا ہے۔

ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے اس معاملے کا قانونی پہلو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساحلی ممالک ان کیبلز کی دیکھ بھال، فیس اور گزرگاہوں کو ریگولیٹ کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
ایران اس ڈھانچے پر اپنی خود مختاری کا استعمال کر کے نیا قانونی نظام متعارف کروا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے براہِ راست خبردار کیا ہے کہ ان کیبلز کو نشانہ بنانے سے خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات اور مالیاتی منڈیاں مفلوج ہو سکتی ہیں۔

یہ بیانیہ ان کیبلز کو محض انفرا اسٹرکچر کے بجائے سیاسی دباؤ اور دفاعی توازن کا حصہ بناتا ہے۔

فالکن  کیبل ایران، بھارت اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ ایشیا افریقہ یورپ-1 سو جی بی فی سیکنڈ کی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔ 

اس کی مجموعی ڈیزائن کردہ گنجائش کم از کم 40 ٹیرابٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کا نقشہ اور ایرانی خطرات
(فوٹو: انٹرنیٹ)

گلف برج انٹرنیشنل ایک خودکار بحالی کا نظام رکھتی ہے جو قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو جوڑتا ہے۔

اسی طرح ٹو افریقہ 45 ہزار کلومیٹر طویل نیٹ ورک ہے جو تین براعظموں کے 33 ممالک میں 3 ارب افراد کو خدمات فراہم کرتا ہے۔

فائبر ان گلف  خطے کا سب سے بڑا نظام ہے جس کی گنجائش 720 ٹیرابٹ فی سیکنڈ ہے۔

سی می وی-6 بھی جنوب مشرقی ایشیا کو مشرق وسطیٰ سے جوڑتا ہے، جس کی ابتدائی گنجائش 126 ٹیرابٹ فی سیکنڈ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ کیبلز کی خرابی کا مطلب انٹرنیٹ کی مکمل بندش نہیں بلکہ ڈیٹا کی رفتار میں کمی اور متبادل راستوں کی تلاش ہے۔ 

تاہم جنگی حالات یا سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے مرمتی جہازوں کی عدم رسائی اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ بحیرہ احمر کا حالیہ بحران ایک مثال ہے، جہاں 15 میں سے 4 کیبلز متاثر ہونے سے 25 فیصد ڈیٹا ٹریفک متاثر ہوئی۔ 

آبنائے ہرمز میں بھی اسی طرح کے حالات پیدا ہونے سے انشورنس اور دیکھ بھال کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس ممکنہ تعطل سے بینکنگ، مالیاتی تجارت، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز اور لاجسٹک کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ  یہ شعبے خلیج اور عالمی منڈیوں کے درمیان مسلسل ڈیٹا کی ترسیل پر انحصار کرتے ہیں جو اب خطرے میں ہے۔

آبنائے ہرمز اب صرف تیل کی ترسیل کا راستہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی معیشت کی ڈیجیٹل شہ رگ بن چکا ہے اورایران کی جانب سے ان کیبلز کو بطور سیاسی کارڈ استعمال کرنے کی دھمکی نے خطے میں سیکیورٹی کے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔