جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی سونی اپنے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فون ’ایکسپیریا ون مارک ایٹ‘ کو متعارف کروانے کی بھرپور تیاریاں کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
رپورٹس کے مطابق اس نئے فون میں ڈیزائن کی تبدیلی اور کیمرہ سسٹم میں بڑی بہتری کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں دوبارہ قدم جمائے جا سکیں۔
فون ایرینا کے تازہ سروے کے مطابق سونی کی عالمی مارکیٹ میں ناکامی کی اصل وجہ فیچرز نہیں بلکہ قیمت ہے۔
سروے میں شامل 75 فیصد شرکا نے رائے دی کہ قیمتوں میں کمی ہی
سونی کی فروخت بڑھانے اور اسے مقابلے میں لانے کا واحد راستہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق نیا ایکسپیریا فون یورپ میں سام سنگ گلیکسی ایس 26 الٹرا اور آئی فون 17 پرو میکس سے بھی مہنگا ہو سکتا ہے۔
خدشہ ہے کہ اس کی قیمت حریف کمپنیوں کے ان بڑے فونز کے مقابلے میں 300 یورو تک زیادہ ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز کی موجودہ مسابقتی مارکیٹ میں صرف بہترین خصوصیات ہی کامیابی کے لیے کافی نہیں ہیں۔ صارفین اب قیمت کے مقابلے میں بہتر کارکردگی اور قدر کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سونی کے لیے عالمی سطح پر بڑے چیلنجز پیدا ہو گئے ہیں۔
سروے میں شامل 12 فیصد افراد کا خیال ہے کہ سونی اب اسمارٹ فون مارکیٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کر سکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ برسوں کی مسلسل گراوٹ کے بعد سونی کے فونز اب ماضی کا قصہ بنتے جا رہے ہیں اور ان کا اثر ختم ہو رہا ہے۔
دوسری جانب 7 فیصد صارفین اب بھی پرامید ہیں کہ ہارڈ ویئر اور دیگر تکنیکی خصوصیات میں بہتری کمپنی کی فروخت بڑھا سکتی ہے۔
کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سونی اپنے روایتی ڈیزائن میں انقلابی تبدیلی لائے تو نئے خریداروں کو اپنی طرف راغب کرنا ممکن ہے۔
واضح رہے کہ سونی نے اب تک اپنے فونز میں 3.5 ایم ایم ہیڈ فون جیک اور فرنٹ اسٹیریو اسپیکرز جیسی روایتی خصوصیات کو برقرار رکھا ہے۔
اگرچہ یہ فیچرز دیگر تمام بڑی کمپنیوں نے ختم کر دیے ہیں، لیکن سونی کے لیے یہ سہولیات اب تک عوامی مقبولیت لانے میں ناکام رہی ہیں۔
سونی کی جانب سے اس نئے فون کی باضابطہ رونمائی متوقع ہے جس کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کمپنی اپنی قیمتوں کی حکمت عملی پر نظرثانی کر کے صارفین کے مطالبات تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔