اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

ایران جنگ: کیا دورۂ چین کے دوران ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات اور ایران جنگ کے تناظر میں عالمی سیاست کی عکاسی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس ہفتے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والا سربراہی اجلاس ایک اہم موقع ہے، جس کا مقصد عالمی تاریخ پر امریکی صدر کے گہرے اثرات کو اجاگر کرنا ہے۔

مزید پڑھیں

اگرچہ چین کی جانب سے کی جانے والی پرتپاک میزبانی انہیں ایک باوقار عالمی رہنما کے طور پر پیش کرے گی، لیکن یہ دورہ یہ بھی ظاہر کرے گا کہ ٹرمپ کے بعض فیصلوں نے خصوصاً ایران جنگ، جس کا کوئی انجام دکھائی نہیں دے رہا، اُن کے اپنے اختیار اور امریکی طاقت کو کس طرح کمزور کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے جان بوجھ کر پیدا 

کردہ عالمی اضطراب کی صورتحال، اس سربراہی اجلاس کے پس منظر کو 1970 کی دہائی میں صدر رچرڈ نکسن کے دور کے بعد سے، امریکی اور چینی قیادت کے درمیان ہونے والی کسی بھی ملاقات سے بالکل مختلف بنا دے گی۔

ٹرمپ کا دورۂ چین اور ایران جنگ

امریکی-چینی سربراہی اجلاس ہمیشہ دنیا کے سب سے اہم سفارتی تعلقات میں استحکام لانے کے لیے ہوتے آئے ہیں، لیکن ٹرمپ خود استحکام کی ضد ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو دنیا میں عدم استحکام کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک بنا دیا ہے۔

ٹرمپ نے آزاد تجارت، اتحادوں اور واشنگٹن کے حق میں جھکے ہوئے بین الاقوامی نظام سمیت امریکی تسلط کی روایتی بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات اور ایران جنگ کے تناظر میں عالمی سیاست کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ٹرمپ جہاں اس تبدیلی کو مطلق امریکی طاقت اور یکطرفہ کارروائی کی آزادی سمجھتے ہیں، وہیں ناقدین اسے ایک خودکار تباہی قرار دیتے ہیں، جو ایسے وقت میں امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے جب ابھرتی ہوئی چینی سپر پاور اس کے تسلط کو چیلنج کر رہی ہے۔

ایران میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنے میں ناکامی اور ٹرمپ کی جنگ کے تباہ کن عالمی معاشی اثرات نے امریکی طاقت پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں، جن سے چین فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ 

پیر کے روز ایران کی جانب سے ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دینا اُن کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک چھوٹی طاقت کی جانب سے امریکی اثر و رسوخ کو للکارنا ٹرمپ کو ذاتی طور پر کمزور ظاہر کرتا ہے۔

ایک چھوٹی طاقت کی جانب سے امریکا کو للکارنا ٹرمپ کو ذاتی طور پر کمزور ظاہر کرتا ہے۔

پیر کی شام ٹرمپ نے قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ اجلاس کیا۔ سی این این کے مطابق وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو دوبارہ شروع کرنے پر گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
دریں اثنا تہران نے دورہ چین سے قبل ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے تسنیم نیوز ایجنسی کے حوالے سے کہا کہ مسٹر ٹرمپ، کبھی مت سوچیں کہ ایران میں موجودہ خاموشی کا فائدہ اٹھا کر آپ بیجنگ میں فاتح بن کر داخل ہو سکیں گے۔

چین ٹرمپ کی الجھنوں سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ جنگ چین کے لیے چیلنجز اور مواقع دونوں لے کر آئی ہے۔ یعنی جہاں امریکی انتظامیہ تہران میں اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں آبنائے ہرمز، جو اس کی تیل کی درآمدات کا اہم راستہ ہے، کی بندش پر واشنگٹن کی بیزاری، ٹرمپ پر الٹا دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چینی امور کے ماہر ایڈگرڈ کاگان کا کہنا ہے کہ ایرانی جنگ نے اس سربراہی اجلاس میں ایک غیر متوقع عنصر شامل کر دیا ہے، جسے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے بنیادی طور پر ایک معاشی ایونٹ کے طور پر ترتیب دیا تھا۔

کاگان کے مطابق یہ صورتحال مختلف ہے کیونکہ ایران کا معاملہ دونوں اطراف کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کوئی تسلی بخش حل نکالنے کے بعد چین کا دورہ کرتے تو بہتر ہوتا۔

چین روایتی طور پر امریکہ کے ساتھ مستحکم تعلقات کا خواہاں رہا ہے، کیونکہ اسے اپنی معیشت کے گہرے ساختی مسائل کے پیش نظر استحکام درکار ہے۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات اور ایران جنگ کے تناظر میں عالمی سیاست کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اُدھر ٹرمپ نے نکسن کے بعد سے چلے آ رہے قابلِ پیش گوئی (predictable) پالیسیوں سے سخت انحراف کیا ہے۔

ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ ان کا غیر متوقع ہونا ان کے حریفوں کے لیے باعثِ حیرت ہے، لیکن اس سے بیجنگ کو فائدہ پہنچنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

مثال کے طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی اتحادی تھائی لینڈ جیسے ممالک، جو واشنگٹن کو چین کے خلاف ایک قلعہ سمجھتے تھے، اب اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ 

تھائی وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ شکایت کی تھی کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنی جنگ کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

دوسری جانب چین اور ایران نے ٹرمپ کی فوری اور ہنگامی نوعیت کی پالیسیوں کی اہمیت کو آشکار کر دیا ہے۔ یہ نہ صرف جغرافیائی سیاست تک محدود ہے، بلکہ یہ تاثر بھی پختہ کر رہا ہے کہ ٹرمپ کی طاقت کم ہو رہی ہے۔

جرمن مارشل فنڈ کے ماہر ایان لیسر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سرگرمیاں ضروری نہیں کہ اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بنیں، کیونکہ ایران میں جاری محاذ آرائی نے ٹرمپ کو بیجنگ میں کمزور یا زیادہ بکھرا ہوا ظاہر کردیا ہے۔

china us iran
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ عالمی تسلط کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن بیجنگ اور تہران نے ان کے غیر روایتی انداز کے نقائص کو بے نقاب کردیا ہے۔

چین نے گزشتہ سال نایاب معدنیات پر اپنی گرفت کا استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کو چینی برآمدات پر محصولات میں کمی پر مجبور کیا اور ٹرمپ کی تجارتی جنگوں میں انہیں شکست دینے والی پہلی طاقت بن گیا۔

اسی طرح ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی توانائی بحران پیدا کر دیا ہے، جس کی سیاسی قیمت ٹرمپ کو پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کے لیے اس سربراہی اجلاس کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔ 

ٹرمپ مزید کوئی خارجہ پالیسی بحران برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ چین اپنی برآمدی معیشت کے لیے عالمی استحکام کا خواہشمند ہے، تاہم  ٹرمپ کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ شی جن پنگ کے ساتھ ان کی دوستی  انہیں ایران پر دباؤ ڈالنے میں مدد دے گی۔ 

بیجنگ کا اپنا مفاد اس میں نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پوزیشن مستحکم ہو۔

یہ سربراہی اجلاس ٹرمپ کے صدارتی دور کا ایک اہم موڑ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹرمپ جن فیصلوں کے ذریعے اپنا عالمی تسلط ثابت کرنا چاہتے تھے، وہ ان کی کھوکھلی طاقت ہی کو دنیا پر آشکار کر رہے ہیں۔