اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کا صبر ختم: جنگ بندی وینٹی لیٹر پر پہنچ گئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران جنگ بندی
جنگ بندی دم توڑنے لگی، ٹرمپ بھڑک اٹھے

دو ماہ قبل نافذ ہونے والی امریکا ایران جنگ بندی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ کے اندر دوبارہ فوجی کارروائی پر غور شروع ہو چکا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں بڑھتی کشیدگی ایک بار پھر عالمی بحران میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دو ماہ قبل 8 اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ امریکی تجویز تعطل کا شکار ہو گئی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کو ’انتہائی منفی اور بہت خراب‘ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کل پیر کے روز خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ’وینٹی لیٹر پر‘ ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ تہران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار کرنے کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ 

مزید پڑھیں

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ امریکا طویل تنازع سے تھک جائے گا یا توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دباؤ کا شکار ہو جائے گا مگر ان کے بقول واشنگٹن پر کوئی دباؤ نہیں اور وہ ’مکمل فتح‘ حاصل کرے گا۔

ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کو اب تک کا ’سب سے کمزور‘ جواب قرار دیا جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی سخت لب و لہجہ اختیار کر لیا۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں خبردار کیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا ’مناسب جواب‘ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

465464 1
صدر ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے (فوٹو: العربیہ)

ایرانی ردعمل میں زور اس بات پر دیا گیا کہ خطے میں تمام محاذوں پر جنگ بند کی جائے، خصوصاً لبنان میں جہاں اسرائیل اور ایران نواز حزب اللہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ 

تہران نے جنگی نقصانات کے ازالے، آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے اعتراف، امریکی بحری محاصرے کے خاتمے، ایران پر عائد پابندیوں کے اٹھانے اور ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ایران نے
آبنائے ہرمز پر
اپنی خودمختاری
اور امریکی پابندیاں
ختم کرنے کا
مطالبہ کیا ہے

ادھر امریکی تجویز میں زور اس بات پر تھا کہ پہلے جنگ روکی جائے، پھر حساس معاملات خصوصاً ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچنے والے ہیں، جہاں ان کی چینی صدر سے ملاقات متوقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ چین پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایران کو نرم مؤقف اختیار کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرے۔
اسی دوران امریکی بحریہ نے اعلان کیا کہ اوہائیو کلاس جوہری آبدوز جبل الطارق پہنچ گئی ہے۔
امریکی بحریہ کے چھٹے بیڑے کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکا کی عسکری تیاری، لچک اور نیٹو اتحادیوں سے وابستگی ظاہر کرنا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبدوز کی تعیناتی ایرانی ردعمل سے براہ راست جڑی ہوئی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ اب دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق ٹرمپ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات پر شدید برہم ہیں، کیونکہ ان اختلافات کو واشنگٹن ایران کی جانب سے بامعنی رعایتوں میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔

5465465
وائٹ ہاؤس میں دوبارہ فوجی کارروائی پر سنجیدہ غور شروع ہو گیا ہے (فوٹو: العربیہ)

رپورٹ کے مطابق ایرانی جواب، جسے ٹرمپ نے مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا، نے امریکی حکام کے اندر یہ شکوک پیدا کر دیے ہیں کہ آیا تہران واقعی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔

واشنگٹن میں اس معاملے پر واضح اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ 

بعض امریکی حکام، خصوصاً پینٹاگون سے وابستہ شخصیات، ایران پر مزید دباؤ ڈالنے اور محدود فوجی حملوں کے ذریعے اس کی پوزیشن کمزور کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ دوسرا حلقہ سفارتی راستے کو مزید وقت دینے پر زور دے رہا ہے۔

پاکستان اور
خطے کے دیگر
ممالک ایران کو
’آخری موقع‘ کا
پیغام پہنچانے میں
مصروف ہیں

اسی دوران امریکی انتظامیہ کے بعض حلقوں نے پاکستانی ثالثوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اسلام آباد ایران تک امریکی ناراضی پوری شدت سے نہیں پہنچا رہ، جبکہ واشنگٹن کو ایرانی مؤقف کی حقیقت سے زیادہ نرم تصویر پیش کی جا رہی ہے۔
ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک نے حالیہ دنوں تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایران کے لیے سنجیدہ سفارت کاری کا شاید آخری موقع ہے۔
اگرچہ پاکستان اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم مبصرین کے مطابق امریکا کی جانب سے کسی بڑے فیصلے کا امکان صدر ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل کم دکھائی دیتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ چین، ایران پر دباؤ ڈال کر اسے ایسی رعایتیں دینے پر آمادہ کر سکتا ہے جو 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کا راستہ ہموار کر دیں۔