دو ماہ قبل نافذ ہونے والی امریکا ایران جنگ بندی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ کے اندر دوبارہ فوجی کارروائی پر غور شروع ہو چکا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں بڑھتی کشیدگی ایک بار پھر عالمی بحران میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ادھر امریکی تجویز میں زور اس بات پر تھا کہ پہلے جنگ روکی جائے، پھر حساس معاملات خصوصاً ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچنے والے ہیں، جہاں ان کی چینی صدر سے ملاقات متوقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ چین پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایران کو نرم مؤقف اختیار کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرے۔
اسی دوران امریکی بحریہ نے اعلان کیا کہ اوہائیو کلاس جوہری آبدوز جبل الطارق پہنچ گئی ہے۔
امریکی بحریہ کے چھٹے بیڑے کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکا کی عسکری تیاری، لچک اور نیٹو اتحادیوں سے وابستگی ظاہر کرنا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبدوز کی تعیناتی ایرانی ردعمل سے براہ راست جڑی ہوئی ہے یا نہیں۔
اسی دوران امریکی انتظامیہ کے بعض حلقوں نے پاکستانی ثالثوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اسلام آباد ایران تک امریکی ناراضی پوری شدت سے نہیں پہنچا رہ، جبکہ واشنگٹن کو ایرانی مؤقف کی حقیقت سے زیادہ نرم تصویر پیش کی جا رہی ہے۔
ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک نے حالیہ دنوں تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایران کے لیے سنجیدہ سفارت کاری کا شاید آخری موقع ہے۔
اگرچہ پاکستان اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم مبصرین کے مطابق امریکا کی جانب سے کسی بڑے فیصلے کا امکان صدر ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل کم دکھائی دیتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ چین، ایران پر دباؤ ڈال کر اسے ایسی رعایتیں دینے پر آمادہ کر سکتا ہے جو 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کا راستہ ہموار کر دیں۔