برطانیہ اور فرانس کی میزبانی میں آج پیر 11 مئی 2026 کو ایک اہم بین الاقوامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں 40 سے زائد ممالک شرکت کریں گے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اس ہنگامی ملاقات کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی محفوظ اور مستقل بحالی کے لیے جامع عسکری منصوبوں پر غور کرنا ہے۔
برطانوی حکومت کے سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک ایک دفاعی بحری مشن کے لیے اپنی عسکری صلاحیتیں پیش کریں گے۔
تحفظ فراہم کرنا اور فضائی نگرانی جیسے اہم اقدامات شامل ہوں گے تاکہ عالمی تجارت کو مکمل تحفظ مل سکے۔
یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے لندن اور پیرس کو خطے میں بحری بیڑے تعینات کرنے کے خلاف سخت وارننگ دی ہے۔
تہران کی جانب سے دی گئی اس دھمکی کے باوجود برطانیہ نے اپنے جنگی جہاز ’ڈریگن‘ کو ممکنہ مشن کے لیے آبنائے ہرمز کی جانب روانہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں گزشتہ 10 ہفتوں سے جاری کشیدگی اور جہاز رانی کی معطلی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز کی فوری تردید نے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے جس سے مارکیٹ میں بے یقینی بڑھی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی اور آبنائے ہرمز پر اپنی مکمل خودمختاری کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا کہ ایران نے امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، تمام پابندیاں ہٹانے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں ایران کی ان تمام شرائط اور تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایرانی مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی پیشکش سے بالکل مطمئن نہیں ہیں اور نہ ہی اسے قبول کریں گے۔
مبصرین کے مطابق اِس وقت عالمی برادری کی نظریں لندن اور پیرس میں ہونے والے اس اجلاس پر لگی ہیں جہاں عسکری ماہرین اہم فیصلے کرنے والے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا عالمی معیشت کے استحکام اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔