امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیئے جانے کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے چینی پھیل گئی۔
برینٹ خام تیل 105 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور سپلائی خدشات کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف مائل ہوگئے جبکہ ڈالر بھی مضبوط ہوگیا۔
ادھر سعودی ارامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین الناصر نے کل اتوار کو کہا کہ دنیا گزشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً ایک ارب بیرل تیل سے محروم ہوچکی ہے اور اگر سپلائی دوبارہ بحال بھی ہوجائے تو توانائی منڈیوں کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق اس ہفتے مزید دو خام تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے اس حال میں گزرے کہ انہوں نے ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھے تھے، جو مشرق وسطیٰ سے تیل برآمدات جاری رکھنے کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران ڈالر مسلسل دوسرے روز بھی بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط رہا۔
اس کی وجہ امریکا میں روزگار کے مضبوط اعدادوشمار اور واشنگٹن و تہران کے درمیان جنگ بندی معاہدے سے متعلق خطرات کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ بتایا گیا۔