اہم خبریں
11 May, 2026
--:--:--

امین الناصر: ہرمز بند رہا تو منڈی ہر ہفتے 10 کروڑ بیرل سے محروم ہوگی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز بحران
أرامكو کے سربراہ نے توانائی بحران کو تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی شاک قرار دیا (فوٹو: سی این این)

سعودی ارامكو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امين الناصر نے کہا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے دوران شروع ہونے والا توانائی سپلائی کا بحران دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران بن چکا ہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی منڈیاں اس وقت غیر معمولی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

امین الناصر نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو ارامكو صرف 3 ہفتوں کے اندر اپنی زیادہ سے زیادہ پائیدار پیداواری صلاحیت، یعنی یومیہ ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

 انہوں نے کہا کہ کمپنی عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی مضبوط آپریشنل صلاحیت رکھتی ہے۔

العربیہ کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی نے پہلی سہ ماہی کے دوران یومیہ ایک کروڑ 26 لاکھ بیرل آئل ایکویویلنٹ پیدا کیا، جو مشکل عالمی حالات کے باوجود مضبوط پیداواری سطح برقرار رکھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے بحران پر بات کرتے ہوئے امین الناصر نے کہا کہ اگر آج آبنائے ہرمز کھول بھی دی جائے تب بھی عالمی منڈیوں کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگیں گے کیونکہ سپلائی چین کو دوبارہ متوازن ہونے کے لیے وقت درکار ہوگا۔ 

oil pump jack work on oilfield petroleum extractio 2026 01 09 07 26 15 utc
جہازوں کی آمدورفت 70 یومیہ سے کم ہو کر صرف 2 سے 5 رہ گئی

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز مزید چند ہفتے بند رہی تو عالمی منڈیاں 2027 سے پہلے مکمل طور پر معمول پر واپس نہیں آ سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو عالمی منڈی ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل سے محروم ہو جائے گی۔ 

ان کے مطابق اس وقت جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی آ چکی ہے، جہاں روزانہ تقریباً 70 جہاز گزرنے کے بجائے اب صرف 2 سے 5 جہاز ہی گزر رہے ہیں، جو عالمی تجارت اور توانائی سپلائی میں شدید خلل کی عکاسی کرتا ہے۔

ارامكو 3 ہفتوں میں
یومیہ ایک کروڑ
20 لاکھ بیرل
پیداوار تک
پہنچنے کی
صلاحیت رکھتی ہے

ارامكو کے سربراہ نے مزید کہا کہ مختلف عالمی اندازوں کے مطابق 2026 کے دوران تیل کی عالمی طلب میں یومیہ 7 لاکھ سے 9 لاکھ بیرل تک اضافہ متوقع ہے کیونکہ عالمی معیشت مسلسل بحالی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تجارت اور شپنگ سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ گئیں تو تیل کی طلب میں انتہائی مضبوط اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔امین الناصر نے کہا کہ اگر سپلائی مکمل طور پر بحال بھی ہو جائے تب بھی توانائی کی عالمی منڈیوں کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔دوسری جانب ماہرین نے کہا کہ ان کی مارکیٹ کے بارے میں رائے اب بھی مثبت ہے اور وہ سعودی ارامكو کے اس مؤقف سے متفق ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز کا بحران ختم بھی ہو جائے تو تیل کی سپلائی کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ماہ درکار ہوں گے۔

واضح رہے کہ آج پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا بعد جب صدر ٹرمپ نے ایران کے امریکی تجویز پر ردعمل کو ناقابل قبول قرار دیا، جس کے بعد عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔

اگرچہ آج قیمتوں میں اضافہ ہوا تاہم گزشتہ ہفتے دونوں خام تیلوں کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد ہفتہ وار کمی ریکارڈ کی گئی تھی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ 10 ہفتوں سے جاری تنازع جلد ختم ہو جائے گا، جس کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہو سکے گی اور عالمی منڈیوں میں سپلائی دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔