کئی دہائیوں تک سائنس فکشن فلموں اور کہانیوں کا حصہ رہنے والا انسانی دماغ اور کمپیوٹر کا براہِ راست رابطہ (برین چپس) اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ٹیک ماہرین کے مطابق جدید نیورل ٹیکنالوجی، جسے برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) کہا جاتا ہے، انسانی صلاحیتوں کو بحال کرنے اور انہیں بڑھانے کی جانب گامزن ہے۔
برین کمپیوٹر انٹرفیس ایسی چپس یا ٹیکنالوجی ہے جو انسانی دماغ کے برقی سگنلز کو ترجمہ کر کے مشینوں کو کنٹرول کرتی ہے۔
برین چپس ٹیکنالوجی کا بنیادی طبی مقصد فالج، بصارت یا سماعت سے
محروم افراد کو اپنی قوتِ ارادی سے آلات یا کمپیوٹر استعمال کرنے کے قابل بنانا ہے۔
طبی میدان میں انقلاب
یہ ٹیکنالوجی ان مریضوں کے لیے اُمید ہے جن کے اعصاب دماغ اور پٹھوں کے درمیان رابطہ کھو چکے ہیں۔
یہ سسٹم فالج زدہ افراد کو بات چیت کرنے، کمپیوٹر ماؤس چلانے اور روبوٹک بازوؤں کو صرف سوچ کے ذریعے حرکت دینے جیسی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
صرف سگنل پڑھنا نہیں، تحریک دینا بھی ممکن
اس جدید ٹیکنالوجی کے نتائج صرف سگنل پڑھنے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ بیرونی معلومات کو دماغ تک پہنچا کر بصارت اور سماعت بحال کر سکتی ہیں۔
یہ سسٹم نیورل سرگرمیوں کو تبدیل کرکے اعصابی و نفسیاتی امراض کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی اقسام اور طریقہ کار
برین چپس مختلف اقسام کی ہیں۔ مثلاً کچھ دماغی بافتوں کے اندر لگائی جاتی ہیں، تو کچھ کھوپڑی کے اوپر یا باہر سے کام کرتی ہیں۔
سائنس کارپوریشن جیسی کمپنیاں اب ’بایو ہائبرڈ‘ ڈیوائسز پر کام کر رہی ہیں، جہاں تاروں کی جگہ عصبی خلیات کا پُل استعمال کیا جا رہا ہے۔
بڑے سرمایہ کاروں کی دلچسپی
ایلون مسک اور سام آلٹمین جیسے ٹیکنالوجی ارب پتی اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایک عام صارفی پراڈکٹ بن جائے گی، جو انسانوں کو ایسی صلاحیتیں فراہم کرے گی جو ان کی موجودہ حیاتیاتی حدود سے کہیں زیادہ ہیں۔
بڑھتی ہوئی عالمی دوڑ
امریکہ میں مرج لیبز اور نَج جیسی اسٹارٹ اپ کمپنیاں اب اس میدان میں سرگرم ہیں۔
اسی طرح چین بھی پیچھے نہیں ہے، جہاں گیسٹالا کمپنی الٹراساؤنڈ ویوز پر مبنی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے، جسے بڑے کاروباری شخصیات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
اگرچہ برین کمپیوٹر انٹرفیس ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور ان کا استعمال بہت محدود ہے، لیکن مصنوعی ذہانت میں پیش رفت نے اس شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ثابت کر رہی ہے کہ جو کل تک محض تخیل تھا، وہ آج ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے بڑا حقیقت پسندانہ منصوبہ بن چکا ہے۔