اہم خبریں
11 May, 2026
--:--:--

ایران کے مسترد شدہ مطالبات: ہرمز پر کنٹرول اور جنگی ہرجانہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا تنازع
ایران نے جنگی نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کردیا

امریکا کی امن تجویز کے جواب میں ایران نے جنگی ہرجانے، آبنائے ہرمز پر خودمختاری، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور پابندیاں اٹھانے جیسے مطالبات پیش کیے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر مسترد کردیا۔
کشیدگی بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات مزید شدت اختیار کرگئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی ردِعمل کو فوری مسترد کئے جانے کے بعد آج پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، کیونکہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ 10 ہفتوں سے جاری تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت معطل رہنے کا امکان برقرار ہے۔

امریکا کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی امید میں چند روز قبل ایک نئی امن تجویز پیش کئے جانے کے بعد، ایران نے کل اتوار کو اپنا جواب دیا، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا، خصوصاً لبنان میں جہاں امریکا کی اتحادی اسرائیل، ایران نواز جماعت حزب اللہ کے خلاف برسرِپیکار ہے۔

مزید پڑھیں

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کیا اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری پر زور دیا۔

نیم سرکاری ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ بحری ناکہ بندی ختم کرے، مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت دے، پابندیاں اٹھائے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد

 امریکی پابندی ختم کرے۔

چند ہی گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کی تجویز مسترد کردی۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: مجھے یہ پسند نہیں آیا، یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

امریکا نے اس سے قبل متنازع امور، خصوصاً ایرانی جوہری پروگرام، پر مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی اختیارات اور ہنگامی قوانین کی علامتی عکاسی
صدر ٹرمپ نے ایرانی جواب کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے دیا

پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں فی بیرل 3 ڈالر تک اضافہ ہوگیا کیونکہ تعطل برقرار رہنے سے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی۔ 

جنگ سے قبل یہ آبی گزرگاہ دنیا کی 20 فیصد تیل سپلائی منتقل کرتی تھی اور موجودہ جنگ میں مرکزی دباؤ کے مقامات میں شامل رہی ہے۔

امریکی عوام کو بھی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے 6 ماہ سے کم عرصہ قبل پیٹرول کی قیمتوں میں شدید اضافے کا سامنا ہے، یہ انتخابات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیاریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنی گرفت برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔

کشیدگی بڑھنے
کے بعد عالمی
تیل قیمتوں میں
تیزی آگئی

امریکا کو بین الاقوامی سطح پر بھی محدود حمایت حاصل ہوئی، کیونکہ نیٹو کے رکن ممالک نے جامع امن معاہدے اور بین الاقوامی مشن کے بغیر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کردیا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ آئندہ کون سے نئے سفارتی یا عسکری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔توقع ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچیں گے، جہاں عالمی توانائی بحران اور جنگ کے خاتمے کے لیے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر ایران ایک اہم موضوع ہوگا، جس پر وہ اور چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کریں گے۔
صدر ٹرمپ چین پر انحصار کر رہے تھے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر آمادہ کرے۔

ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے گزشتہ اتوار نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ شکست کھا چکے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ ایران سے افزودہ یورینیم ہٹانے، افزودگی کے مراکز ختم کرنے، ایران کے اتحادی گروپوں اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں سے نمٹنے کے لیے مزید کام باقی ہے۔

ایران امریکا جنگ بندی
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

نتن یاہو نے امریکی ٹی وی پروگرام 60 منٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ افزودہ یورینیم کے خاتمے کا بہترین راستہ سفارتکاری ہے تاہم انہوں نے طاقت کے استعمال کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزکشیان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کبھی دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔

اگرچہ سفارتی کوششیں تعطل ختم کرنے کے لیے جاری ہیں، تاہم خطے کی معیشتوں اور بحری راستوں کو درپیش خطرات بدستور سنگین ہیں۔