امریکا کی امن تجویز کے جواب میں ایران نے جنگی ہرجانے، آبنائے ہرمز پر خودمختاری، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور پابندیاں اٹھانے جیسے مطالبات پیش کیے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر مسترد کردیا۔
کشیدگی بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات مزید شدت اختیار کرگئے۔
امریکا کو بین الاقوامی سطح پر بھی محدود حمایت حاصل ہوئی، کیونکہ نیٹو کے رکن ممالک نے جامع امن معاہدے اور بین الاقوامی مشن کے بغیر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کردیا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ آئندہ کون سے نئے سفارتی یا عسکری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔توقع ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچیں گے، جہاں عالمی توانائی بحران اور جنگ کے خاتمے کے لیے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر ایران ایک اہم موضوع ہوگا، جس پر وہ اور چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کریں گے۔
صدر ٹرمپ چین پر انحصار کر رہے تھے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر آمادہ کرے۔