ایک طویل عرصے سے یہ تاثر عام ہے کہ بہترین اسمارٹ فون صرف ’آئی فون پرو‘ ہی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچ صارف کی حقیقی ضرورت کے بجائے ایپل کی جارحانہ مارکیٹنگ کا نتیجہ ہے۔
مزید پڑھیں
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ڈیجیٹل ٹرینڈز‘ کے مطابق کمپنی خود ہر سال پرو ماڈلز کو برتر ظاہر کرتی ہے۔
پرو کی چکا چوند بمقابلہ حقیقت
کیمرہ کی کثرت، ٹائٹینیئم باڈی اور تیز رفتار اسکرین ایسے عوامل ہیں جنہوں نے یہ تاثر دیا کہ بنیادی ماڈل خریدنا محض ایک سمجھوتا ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر صارفین فون کو صرف براؤزنگ، ای
میل، میسجز، موسیقی اور عام ویڈیوز دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کیمرہ اور ڈسپلے کے مغالطے
اگرچہ پرو ماڈلز میں ایڈوانس کیمرا سسٹم موجود ہے، لیکن ایک عام صارف کو روزمرہ کے استعمال میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اسی طرح 120 ہرٹز پرو موشن ڈسپلے کا فرق بھی وقت کے ساتھ ساتھ اہمیت کھو دیتا ہے کیونکہ بنیادی ماڈلز کی کارکردگی اب کافی بہتر ہو چکی ہے۔
ضرورت یا صرف تصور؟
آئی فون کا بنیادی ماڈل اب سافٹ ویئر سپورٹ، پروسیسنگ پاور اور کیمرہ کوالٹی کے اعتبار سے ایک مکمل تجربہ فراہم کرتا ہے۔
بہت سے صارفین پرو ماڈل کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ وہ خود کو ایک ’مثالی صارف‘ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ اپنی حقیقی ضرورت کے مطابق۔
مستقبل میں فون خریدتے وقت اس سوال پر غور کرنا ضروری ہے کہ آپ ان فیچرز میں سے کتنے واقعی روزانہ استعمال کرتے ہیں۔
حقیقت پسندانہ جائزہ لینے پر اکثر یہی معلوم ہوتا ہے کہ آئی فون کا بنیادی ماڈل نہ صرف کافی ہے بلکہ زیادہ تر صارفین کے لیے منطقی انتخاب بھی ہے۔