متحدہ عرب امارات کو جدید ترین امریکی اے آئی چپس کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اقدام ابوظبی میں زیر تعمیر 5 گیگاواٹ صلاحیت کے مشترکہ مصنوعی ذہانت کمپلیکس کے منصوبے کا حصہ ہے، جس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
واشنگٹن میں منعقدہ ’ایس سی ایس پی اے آئی پلس‘ نمائش سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی سفیر یوسف العتیبہ نے کہا کہ دونوں ممالک دہائی کے اہم ترین اقتصادی اتحاد کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امارات پہلے ہی امریکہ میں ایک ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کر چکا ہے، جبکہ مزید 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ہے۔
اے آئی کمپلیکس
5 گیگاواٹ صلاحیت کے حامل اس اے آئی کمپلیکس کا سنگ بنیاد گزشتہ برس رکھا گیا تھا۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں 200 میگاواٹ بجلی کی فراہمی جلد شروع ہو جائے گی۔ نومبر 2025 میں امریکہ نے اس منصوبے کے لیے جدید نسل کی ہزاروں چپس برآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔
ٹیکنالوجی کی عالمی منڈی کا گیٹ وے
سفیر یوسف العتیبہ نے واضح کیا کہ ابوظبی میں تیار ہونے والا بنیادی ڈھانچہ امریکی ٹیکنالوجی کو دنیا کی نصف آبادی تک پہنچانے میں مدد دے گا۔
امارات اس منصوبے کے ذریعے ضرورت مند منڈیوں تک جدید ترین ٹیکنالوجی کی رسائی یقینی بنانا چاہتا ہے، جو ایک ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
ٹیکنالوجی کے تحفظ کا عالمی معیار
امارات نے جدید ٹیکنالوجی کی حفاظت کے لیے سخت اور شفاف نگرانی کے نظام قائم کیے ہیں، جو دونوں حکومتوں کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں۔
یہ نظام ’پیکس سلیکا‘ اقدام کا بنیادی حصہ ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور سپلائی چین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ایک دہائی کی طویل محنت
امارات نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک دہائی تک مسلسل کام کیا ہے۔
2017 میں دنیا کے پہلے وزیر برائے مصنوعی ذہانت کا تقرر کیا گیا، جبکہ ’محمد بن زاید یونیورسٹی فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جو عالمی سطح پر تحقیق کا مرکز ہے۔
سفیر العتیبہ نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل ان ممالک کا ہے جو سرمایہ کاری، عزم اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
آئی ٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ امارات اور امریکہ کی یہ شراکت داری آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کے عالمی منظر نامے پر ایک کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آئے گی۔