سائنسی ماہرین نے 2300 سال قدیم مصری ممیوں (مومیائی باقیات) کے رازوں کو جدید طبی آلات کے ذریعے بے نقاب کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
ہنگری کی سیمل ویز یونیورسٹی کے ماہرین نے فوٹون کاؤنٹنگ ڈیٹیکٹرز سے لیس جدید ترین سی ٹی اسکین کا استعمال کرتے ہوئے ان قدیم نمونوں کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔
یہ تحقیق ہنگری کے نیشنل میوزیم کے میڈیکل ہسٹری میوزیم کے اشتراک سے کی گئی۔
اس جدید امیجنگ تکنیک کی بدولت محققین کو انتہائی ہائی ریزولوشن
تصاویر حاصل ہوئی ہیں، جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھیں۔ یہ غیر تباہ کن طریقہ کار ممیوں کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے ان کی اندرونی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
تاریخی تناظر اور کاربن ڈیٹنگ
یہ باقیات طویل عرصے سے میوزیم کے مجموعے کا حصہ رہی ہیں۔ کاربن ڈیٹنگ (C14) کے نتائج سے انکشاف ہوا کہ یہ باقیات 401 سے 259 قبل مسیح کے درمیان کی ہیں۔
موجودہ پروجیکٹ کے تحت تمام ممیوں کے نمونوں کو دوبارہ چیک کیا جا رہا ہے تاکہ پہلے کی محدود تحقیق کی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
طبی اور حیاتیاتی انکشافات
محققین نے اسکین کے ذریعے دانتوں اور کھوپڑی کے جوڑوں کی باریک تفصیلات دیکھی ہیں، جو عمر کے تعین اور تھری ڈی ماڈلنگ میں معاون ثابت ہوں گی۔
ایک ممی میں اوسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) کے آثار ملے ہیں، جبکہ دیگر نمونوں میں نوجوانوں کی باقیات کی شناخت ہوئی ہے۔
ممیوں کی حیران کن شناخت
تحقیق کے دوران ایک ایسا نمونہ سامنے آیا جسے پہلے صرف ایک انسانی سر یا پرندے کی ممی سمجھا جاتا تھا۔
تاہم جدید اسکین سے ثابت ہوا کہ یہ درحقیقت ایک بالغ انسان کا پاؤں ہے۔ اس قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ سائنسی درستگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قدیم زمانے میں ممی بنانے کے کیا طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔
تحقیق میں کپڑوں کی تہوں اور ان کی ساخت کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقیات کبھی کسی مکمل ممی کا حصہ تھیں۔ ایک محفوظ ہاتھ کے تجزیے سے عمر اور جنس کے تعین میں مدد ملنے کی امید ہے۔
مستقبل کی توقعات
میوزیم کی کیوریٹر کرسٹینا شیفر کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی سائنسی اعتبار سے ناقابل تردید نتائج فراہم کر رہی ہے۔
اس میں موجودہ ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس سے قدیم مصر میں صحت کی صورتحال، روزمرہ زندگی اور تحفظ کے ان طریقوں پر نئی روشنی پڑے گی جو اب تک پردہ غیب میں تھے۔
یہ جدید سائنسی مطالعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح تاریخ کے بوسیدہ اور پیچیدہ حصوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
قدیم آثار کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل کردہ یہ ڈیٹا نہ صرف تاریخی شواہد میں اضافہ کرے گا، بلکہ انسانی ارتقا اور طبی تاریخ کے نامکمل ابواب کو بھی مکمل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔