امریکہ میں ایگزیکٹو اختیارات کی حدود اور جمہوری عمل کے مستقبل پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ کے صدارتی اختیارات کی بحث کے دوران ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سرد جنگ کے دور میں ہنگامی حالات کے لیے تیار کردہ صدارتی ٹولز اب داخلی سیاست اور انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سابق عہدیدار مائلز ٹیلر نے ’کتابِ قیامت‘ کا انکشاف کیا ہے۔
یہ خفیہ ہنگامی دستاویزات صدر کو غیر معمولی اختیارات دیتی ہیں، جن میں شہریوں کی گرفتاری، میڈیا پر سنسر شپ، مواصلات کی معطلی، جائیدادوں کا انجماد اور مارشل لاء کا نفاذ شامل ہے۔
اختیارات کا غلط استعمال
ٹیلر کے مطابق یہ قوانین جوہری حملے کے بعد ریاست کے انہدام سے نمٹنے کے لیے بنے تھے، نہ کہ سیاسی تنازعات کے لیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے پہلے دور میں پروفیشنل حکام نے وفاداروں کو ان منصوبوں تک رسائی سے روکے رکھا تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو۔
ٹرمپ کی سوچ اور سیکیورٹی خدشات
ٹرمپ کو ماضی میں ہنگامی اختیارات اور داخلی طاقت کے استعمال میں دلچسپی لیتے دیکھا گیا ہے۔
ٹیلر کے مطابق ٹرمپ سرحدوں پر مہلک طاقت کے استعمال، سول وار اور انتخابات کے بعد بیلٹ بکس قبضے میں لینے کے لیے نیشنل گارڈ کو تعینات کرنے جیسے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔
داخلی دہشت گردی اور قانون
ماہرین ’نیشنل سیکیورٹی پریزیڈنشل میمورنڈم 7‘ پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز ’داخلی دہشت گردی‘ کے تصور کو وسیع کر کے امریکی سیاسی گروہوں کے خلاف کارروائی، نگرانی اور گرفتاریوں کا قانونی جواز فراہم کر سکتی ہے۔
سیاسی طاقت کا مطلق تصور
نیویارک ٹائمز کے تھامس ایڈسل کے مطابق ٹرمپ اقتدار کو ایک ذاتی اور لامحدود حق سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ کے یہ بیانات کہ ’میں صدر ہوں اور کچھ بھی کرنے کا حق رکھتا ہوں‘ اور انتخابات کی ضرورت پر سوال اٹھانا جمہوری اقدار کے لیے سنگین خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انتخابی عمل اور مستقبل کا منظر نامہ
قانونی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انتخابی نتائج پر سوال اٹھا کر تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
اس منظر نامے میں سیکیورٹی اداروں کا سیاسی استعمال اور عدلیہ یا کانگریس کی جانب سے ردعمل میں تاخیر امریکی جمہوری نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔