اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

انٹیلی جینس رپورٹ: ایران نے اپنی میزائل طاقت بحال کرلی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران میزائل صلاحیت
خفیہ رپورٹ نے ٹرمپ کے ایران کی تباہ شدہ فوجی طاقت کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیئے

امریکی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ جنگ اور شدید بمباری کے باوجود ایران نے اپنی زیادہ تر میزائل صلاحیتیں بحال کرلی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع بیشتر میزائل لانچنگ سائٹس، موبائل لانچرز اور زیرِ زمین عسکری تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے کہ ایران کی فوجی طاقت شدید متاثر ہوچکی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس جائزوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے باوجود اپنی زیادہ تر میزائل صلاحیتیں دوبارہ بحال کرلی ہیں، جن میں بیشتر لانچنگ سائٹس اور زیرِ زمین عسکری تنصیبات تک رسائی بھی شامل ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے اطراف موجود 33 میں سے 30 میزائل مقامات پر دوبارہ آپریشنل صلاحیت بحال کرلی ہے۔ 

ان مقامات کو موبائل پلیٹ فارمز کے ذریعے میزائلوں کی نقل و حمل اور لانچنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی ملک بھر میں پھیلے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ جنگ سے قبل موجود اس کے تقریباً 70 فیصد میزائل ذخائر بھی برقرار ہیں۔

تخمینوں میں مزید کہا گیا ہے کہ تہران نے زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ تنصیبات کے تقریباً 90 فیصد حصے تک دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شدید فضائی حملوں کے

 باوجود ایرانی فوجی ڈھانچہ نہ صرف قائم رہا بلکہ دوبارہ منظم ہونے میں بھی کامیاب ہوا۔

ٹرمپ کے بیانات سے تضاد

یہ انٹیلی جنس اندازے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تہران اپنا بحری بیڑہ کھو چکا ہے اور اس کی فضائیہ تباہ ہوچکی ہے۔ 

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ChatGPT Image 13 مايو 2026، 11 04 10 ص

انہوں نے حالیہ دنوں میں یہ بھی زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے، چاہے اس کے لیے داخلی اقتصادی دباؤ، مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

تہران نے
90 فیصد زیرِ زمین
میزائل تنصیبات تک
دوبارہ رسائی
حاصل کرلی

تاہم نئی انٹیلی جنس رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ایران اپنی اسٹریٹجک میزائل صلاحیتوں کے ایک بڑے حصے کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا، خاص طور پر وہ نظام جو موبائل انفراسٹرکچر اور زیرِ زمین محفوظ تنصیبات سے وابستہ ہیں۔
آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی میزائل تنصیبات کی موجودگی تہران کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل تجارت کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران خلیجی خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، جہاں سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے دھمکیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
امریکی رپورٹس میں اس امکان کا ذکر کیا گیا کہ اگر موجودہ جنگ بندی ناکام ہوئی تو واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔

اگرچہ پاکستان اور چین سمیت کئی ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بحران اب بھی مختلف خطرناک امکانات کے سائے میں موجود ہے، خصوصاً ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں عسکری توازن کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔