امریکی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ جنگ اور شدید بمباری کے باوجود ایران نے اپنی زیادہ تر میزائل صلاحیتیں بحال کرلی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع بیشتر میزائل لانچنگ سائٹس، موبائل لانچرز اور زیرِ زمین عسکری تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے کہ ایران کی فوجی طاقت شدید متاثر ہوچکی ہے۔
تاہم نئی انٹیلی جنس رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ایران اپنی اسٹریٹجک میزائل صلاحیتوں کے ایک بڑے حصے کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا، خاص طور پر وہ نظام جو موبائل انفراسٹرکچر اور زیرِ زمین محفوظ تنصیبات سے وابستہ ہیں۔
آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی میزائل تنصیبات کی موجودگی تہران کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل تجارت کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران خلیجی خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، جہاں سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے دھمکیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
امریکی رپورٹس میں اس امکان کا ذکر کیا گیا کہ اگر موجودہ جنگ بندی ناکام ہوئی تو واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔