اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

ایرانی کمپنیاں جنگ کے بوجھ تلے دب گئیں، بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران میں معاشی بحران، صنعتی مراکز کی بندش اور بے روزگار افراد کی عکاسی
ایران میں تازہ حالات کے نتیجے میں ڈیجیٹل معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران میں جاری جنگی صورتحال اور اس کے نتیجے میں عائد داخلی پابندیوں نے ملک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ملک میں انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش اور اہم صنعتی مراکز پر حملوں نے نجی شعبے کے لیے کام جاری رکھنا ناممکن بنا دیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ ہوا ہے۔

معاشی بحران اور بے روزگاری کا طوفان

ایرانی عہدیدار غلام حسین محمدی کے مطابق جنگ کے باعث 10 لاکھ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ بالواسطہ اور براہ راست بیروزگاری 

سے 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

آن لائن جاب پورٹل پر 25 اپریل کو 3 لاکھ 18 ہزار ریزیومے جمع ہوئے، جو پچھلے ریکارڈ سے 50 فیصد زیادہ ہیں۔

ایران میں معاشی بحران، صنعتی مراکز کی بندش اور بے روزگار افراد کی عکاسی
ایران میں بالواسطہ اور براہ راست بیروزگاری سے 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

شعبہ ٹیکنالوجی: اُمید سے تباہی تک

ایران میں تازہ حالات کے نتیجے میں ڈیجیٹل معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں انٹرنیٹ کی بندش سے روزانہ 8 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

’ایران کی ایمیزون‘ سمجھی جانے والی کمپنی ’دیجی کالا‘ نے 200 ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، جبکہ ’کامفا‘ جیسی ای کامرس کمپنیوں نے مکمل بندش کا اعلان کر دیا ہے۔

صنعتی شعبے میں خام مال کا فقدان

اسی طرح صنعتی مراکز اور پیٹرو کیمیکل پلانٹس پر حملوں اور سمندری ناکہ بندی سے درآمدات رُک گئی ہیں۔

لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق مغربی ایران میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری نے 800 میں سے 700 جبکہ شمالی ایران میں ایک اور یونٹ نے 500 ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا ہے۔

ایران میں معاشی بحران، صنعتی مراکز کی بندش اور بے روزگار افراد کی عکاسی
ایران میں اجرتوں میں 60 فیصد اضافے کے حکومتی فیصلے نے بھی کمپنیوں پر بوجھ ڈالا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ملازمین کی زندگیوں پر اثرات

بابک نامی ایک ڈیزائنر جو اپنی نوکری کھو چکے ہیں، کہتے ہیں کہ مسلسل معاشی غیر یقینی نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔

ایران میں اجرتوں میں 60 فیصد اضافے کے حکومتی فیصلے نے بھی کمپنیوں پر بوجھ ڈالا، جس سے چھانٹیوں کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔

حکومتی پالیسی اور سماجی بے چینی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی دباؤ کو اپنی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کمپنیوں کو چھانٹیوں سے گریز کی ہدایت کی ہے، تاہم صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں اور جنگ کے باعث کاروبار جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

ایران میں معاشی بحران، صنعتی مراکز کی بندش اور بے روزگار افراد کی عکاسی
شمالی ایران میں ایک اور یونٹ نے 500 ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مستقبل کا سنگین منظرنامہ

ایران کا معاشی ڈھانچہ پہلے ہی بدانتظامی اور پابندیوں کا شکار تھا اور اب جنگ نے اسے ایک پیچیدہ بھنور میں دھکیل دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں ٹیکس ریونیو میں کمی اور نجی شعبے کی تباہی سے حکومتی بجٹ کا توازن بگڑ گیا ہے، جس سے مستقبل میں سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔