امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑھتے عسکری اور بحری دباؤ نے تہران کو زمینی سرحدی راستوں پر انحصار بڑھانے پر مجبور کردیا ہے۔
عراق، پاکستان اور افغانستان کے ذریعے ایرانی پٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس نے خطے میں غیر قانونی معیشت اور سرحدی تجارت کو تیزی کردیا ہے۔
جنگ، پابندیاں
اور اسمگلنگ
ایران کا اربوں
ڈالر کا خفیہ
کاروبار بے قابو
اندازوں کے مطابق روزانہ دسیوں ہزار لیٹر ایرانی پٹرول کردستان پہنچ رہا ہے۔
تاہم بغداد کے زیر انتظام علاقوں میں اسمگلنگ نسبتاً کم ہے کیونکہ وہاں سکیورٹی نگرانی زیادہ سخت اور زمینی راستے ہموار ہیں۔
عراقی ماہرین کے مطابق جنگ کے باوجود ایران سے عراق کی سرکاری تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، کیونکہ ایران خوراک اور صنعتی مصنوعات کا اہم سپلائر ہے۔
اسی لیے بغداد حکومت سرحدی تجارت کو مکمل روکنے سے گریز کررہی ہے۔
ادھر پاکستان میں ایران سے جڑی غیر رسمی معیشت زیادہ وسیع اور منظم شکل اختیار کرچکی ہے۔
بلوچستان میں ایرانی پٹرول اور ڈیزل برسوں سے مقامی معیشت کا اہم حصہ ہیں کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 909 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔
روزانہ بڑی مقدار میں ایرانی ایندھن زمینی اور سمندری راستوں سے بلوچستان پہنچتا ہے، جہاں سے اسے مقامی مارکیٹوں اور پٹرول پمپس تک منتقل کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں تک بھی۔
رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے کمزور معاشی حالات، پیچیدہ سکیورٹی ماحول اور قانونی پٹرول پمپس کی کمی نے غیر قانونی ایندھن کی تجارت کو فروغ دیا۔
ابتدا میں حکومت نے سرحدی دیہات کو محدود پیمانے پر ایرانی ایندھن لانے کی اجازت دی تھی، مگر بعد میں یہ کاروبار بڑے شہروں تک پھیل گیا۔
2024 کی پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق روزانہ تقریباً ایک کروڑ لیٹر ایرانی پٹرول اور ڈیزل پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خراب ہونے سے بلوچستان میں ایرانی ایندھن کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور ایندھن بحران پیدا ہوگیا۔
تاہم کچھ عرصے بعد اسمگلنگ کے راستے دوبارہ بحال ہوگئے بلکہ مزید بڑھ گئے، کیونکہ پاکستان میں سرکاری ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔
امریکی بحری
محاصرہ بے اثر
ایران نے زمینی
راستوں سے
معیشت بچا لی
بلوچستان کے مقامی افراد کے مطابق ایرانی پٹرول پاکستانی پٹرول کے مقابلے میں تقریباً آدھی قیمت پر دستیاب ہے، اسی لیے عوام کی بڑی تعداد اسی پر انحصار کرتی ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق بلوچستان میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار کسی نہ کسی حد تک اس غیر رسمی تجارت سے وابستہ ہوچکا ہے۔پاکستانی حکومت وقتاً فوقتاً اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹمز حکام نے کئی مرتبہ ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اعلان کیا، مگر سرحدی علاقوں میں محدود حکومتی موجودگی کے باعث مکمل کنٹرول ممکن نہیں ہوسکا۔
اسی طرح افغانستان میں جنگ کے اثرات صرف اسمگلنگ تک محدود نہیں بلکہ ایران کے ساتھ جاری سرحدی تجارت میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں، خصوصاً اسلام قلعہ بارڈر اور ہرات کے راستوں پر۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان روزانہ 1200 سے 1300 ٹرکوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، جن میں ایندھن، خوراک اور تعمیراتی سامان شامل ہوتا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی وجوہ کے باعث بعض اوقات سپلائی متاثر ہوتی ہے، لیکن تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔
ہرات کے تاجروں کے مطابق ایرانی ایندھن مغربی افغانستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
سرحد پر معمولی تاخیر بھی فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔
افغان ماہرین کے مطابق مغربی افغانستان کی معیشت بڑی حد تک سرحدی گزرگاہوں پر انحصار کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود وہاں کے تجارتی نیٹ ورکس خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔
یہ پوری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اور بحری ناکہ بندی نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی غیر رسمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
جب بحری راستے محدود ہوتے ہیں تو زمینی سرحدیں متبادل اقتصادی راستوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں، اور یہی عمل عراق، پاکستان اور افغانستان میں واضح طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بشکریہ: الجزیرہ