اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

ایران کی بقا کا راستہ: پاکستان، افغانستان اور عراق میں تیل اسمگلنگ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران اسمگلنگ نیٹ ورک
بحری ناکہ بندی کے بعد ایران کی تجارت کا رخ زمینی سرحدوں کی جانب منتقل ہوگیا

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑھتے عسکری اور بحری دباؤ نے تہران کو زمینی سرحدی راستوں پر انحصار بڑھانے پر مجبور کردیا ہے۔
عراق، پاکستان اور افغانستان کے ذریعے ایرانی پٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس نے خطے میں غیر قانونی معیشت اور سرحدی تجارت کو تیزی کردیا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد تہران کو خلیج عرب اور بحیرۂ عرب سے جڑے اپنے بحری راستوں پر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 

امریکی بحری ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں کے باعث ایران کی تجارت اور ایندھن کی ترسیل کا بڑا حصہ زمینی اور سرحدی راستوں کی طرف منتقل ہوگیا، خصوصاً عراق، پاکستان اور افغانستان کے راستے زیادہ متحرک ہوگئے۔

ایرانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران کی 55 فیصد درآمدات و برآمدات خلیج عرب اور بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہیں، جبکہ اس کی 90 فیصد تیل برآمدات بھی انہی بندرگاہوں پر منحصر ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ بحری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوتے ہی خطے میں اسمگلنگ نیٹ ورکس اور غیر قانونی معیشت دوبارہ سرگرم ہوگئی۔

مزید پڑھیں

جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ ایران، عراق، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایندھن، خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 

زمینی سرحدیں متبادل تجارتی راستوں میں تبدیل ہوگئیں اور کئی علاقوں میں یہ سرگرمیاں مقامی معیشت کا اہم حصہ بن گئیں۔

عراق کئی برسوں سے ایران کے لیے ایک اہم معاشی سہارا رہا ہے۔ 

ایرانی تیل کو عراقی تیل میں ملا کر برآمد کیے جانے کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں مگر جنگ کے بعد اسمگلنگ کی نوعیت مزید تبدیل ہوگئی، خصوصاً ایران سے ملحق کردستان کے پہاڑی علاقوں میں۔ 

عراقی کردستان کے سرحدی علاقوں میں دشوار گزار پہاڑی راستے اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ایرانی اور کردستانی سکیورٹی فورسز کی نگرانی سے بچا جاسکے۔ 

اس کام میں ملوث افراد کو ’کولبار‘ کہا جاتا ہے، جو اپنی پیٹھ پر بھاری سامان اٹھا کر سرحد عبور کرتے ہیں۔

4564654 2
عراقی کردستان کے پہاڑی راستے ایرانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کا اہم مرکز بن گئے (فوٹو: الجزیرہ)

حالیہ مہینوں میں موبائل فون، الیکٹرانکس اور دیگر بنیادی اشیا کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا، کیونکہ پابندیوں کے باعث ایران میں ان اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ 

دوسری جانب ایران سے اربیل اور سلیمانیہ کی طرف پٹرول اسمگل کیا جارہا ہے۔

سلیمانیہ کے ایک پیٹرول پمپ مالک کے مطابق ایران اور عراق میں پٹرول کی قیمتوں میں بڑے فرق نے اسمگلنگ کو منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ 

ایران میں پٹرول انتہائی سستا ہے جبکہ عراق میں اس کی قیمت کئی گنا زیادہ ہے، اسی لیے اسمگل شدہ ایرانی پٹرول بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔

جنگ، پابندیاں
اور اسمگلنگ
ایران کا اربوں
ڈالر کا خفیہ
کاروبار بے قابو

اندازوں کے مطابق روزانہ دسیوں ہزار لیٹر ایرانی پٹرول کردستان پہنچ رہا ہے۔
تاہم بغداد کے زیر انتظام علاقوں میں اسمگلنگ نسبتاً کم ہے کیونکہ وہاں سکیورٹی نگرانی زیادہ سخت اور زمینی راستے ہموار ہیں۔
عراقی ماہرین کے مطابق جنگ کے باوجود ایران سے عراق کی سرکاری تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، کیونکہ ایران خوراک اور صنعتی مصنوعات کا اہم سپلائر ہے۔
اسی لیے بغداد حکومت سرحدی تجارت کو مکمل روکنے سے گریز کررہی ہے۔
ادھر پاکستان میں ایران سے جڑی غیر رسمی معیشت زیادہ وسیع اور منظم شکل اختیار کرچکی ہے۔
بلوچستان میں ایرانی پٹرول اور ڈیزل برسوں سے مقامی معیشت کا اہم حصہ ہیں کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 909 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔

روزانہ بڑی مقدار میں ایرانی ایندھن زمینی اور سمندری راستوں سے بلوچستان پہنچتا ہے، جہاں سے اسے مقامی مارکیٹوں اور پٹرول پمپس تک منتقل کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں تک بھی۔

8774
ایران کے خفیہ راستے سرگرم، پٹرول، ڈیزل اور سامان کی اسمگلنگ عروج پر (فوٹو: الجزیرہ)

رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے کمزور معاشی حالات، پیچیدہ سکیورٹی ماحول اور قانونی پٹرول پمپس کی کمی نے غیر قانونی ایندھن کی تجارت کو فروغ دیا۔ 

ابتدا میں حکومت نے سرحدی دیہات کو محدود پیمانے پر ایرانی ایندھن لانے کی اجازت دی تھی، مگر بعد میں یہ کاروبار بڑے شہروں تک پھیل گیا۔

2024 کی پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق روزانہ تقریباً ایک کروڑ لیٹر ایرانی پٹرول اور ڈیزل پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خراب ہونے سے بلوچستان میں ایرانی ایندھن کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور ایندھن بحران پیدا ہوگیا۔ 

تاہم کچھ عرصے بعد اسمگلنگ کے راستے دوبارہ بحال ہوگئے بلکہ مزید بڑھ گئے، کیونکہ پاکستان میں سرکاری ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔

امریکی بحری
محاصرہ بے اثر
ایران نے زمینی
راستوں سے
معیشت بچا لی

بلوچستان کے مقامی افراد کے مطابق ایرانی پٹرول پاکستانی پٹرول کے مقابلے میں تقریباً آدھی قیمت پر دستیاب ہے، اسی لیے عوام کی بڑی تعداد اسی پر انحصار کرتی ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق بلوچستان میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار کسی نہ کسی حد تک اس غیر رسمی تجارت سے وابستہ ہوچکا ہے۔پاکستانی حکومت وقتاً فوقتاً اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹمز حکام نے کئی مرتبہ ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اعلان کیا، مگر سرحدی علاقوں میں محدود حکومتی موجودگی کے باعث مکمل کنٹرول ممکن نہیں ہوسکا۔
اسی طرح افغانستان میں جنگ کے اثرات صرف اسمگلنگ تک محدود نہیں بلکہ ایران کے ساتھ جاری سرحدی تجارت میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں، خصوصاً اسلام قلعہ بارڈر اور ہرات کے راستوں پر۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان روزانہ 1200 سے 1300 ٹرکوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، جن میں ایندھن، خوراک اور تعمیراتی سامان شامل ہوتا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی وجوہ کے باعث بعض اوقات سپلائی متاثر ہوتی ہے، لیکن تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔

56464646
ایران کی سرحدی معیشت کا دھماکہ، پاکستان اور عراق میں اسمگلنگ کا طوفان (فوٹو: الجزیرہ)

ہرات کے تاجروں کے مطابق ایرانی ایندھن مغربی افغانستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ 

سرحد پر معمولی تاخیر بھی فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔

افغان ماہرین کے مطابق مغربی افغانستان کی معیشت بڑی حد تک سرحدی گزرگاہوں پر انحصار کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود وہاں کے تجارتی نیٹ ورکس خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔

یہ پوری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اور بحری ناکہ بندی نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی غیر رسمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ 

جب بحری راستے محدود ہوتے ہیں تو زمینی سرحدیں متبادل اقتصادی راستوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں، اور یہی عمل عراق، پاکستان اور افغانستان میں واضح طور پر دیکھا جارہا ہے۔

بشکریہ: الجزیرہ