امریکا نے سمندر
بند کیا تو ایران نے
زمین کھول دی
چین ایران ریل
رابطہ تیز
چین پر بڑا انحصار
چین، ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل خریدنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ممالک نے توانائی، انفراسٹرکچر اور نقل و حمل سمیت مختلف شعبوں میں طویل المدتی شراکت داری کو مضبوط بنایا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ریلوے کے ذریعے تجارت سمندری راستوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی، کیونکہ ٹرینوں کے ذریعے منتقل ہونے والے سامان کی مقدار بحری جہازوں کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے۔
ریلوے لائن کی اہمیت کے باوجود ایران کو کئی لاجسٹک مشکلات کا سامنا ہے، جن میں طویل راستہ، مختلف ممالک سے گزرنے کی پیچیدگیاں اور ریلوے نظام و انفراسٹرکچر میں فرق شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ٹرین کے ذریعے سامان کی ترسیل سمندری نقل و حمل کے مقابلے میں زیادہ مہنگی بھی سمجھی جاتی ہے، خصوصاً بھاری سامان اور خام مال کے لیے۔
اس کے باوجود تہران اس راستے کو امریکی دباؤ کم کرنے کے لیے ایک عملی حل کے طور پر دیکھ رہا ہے تاکہ اپنے اتحادیوں اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارت کا سلسلہ برقرار رکھا جا سکے۔
دباؤ میں ایرانی معیشت
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی معیشت مغربی پابندیوں، بحری محاصرے اور خلیجی عسکری کشیدگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔
جہاں واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس محاصرے کا مقصد ایرانی معیشت کو ’گھٹنوں پر لانا‘ اور تہران کو رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے، وہیں ایران متبادل تجارتی راستے تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے عالمی منڈیوں سے مکمل طور پر الگ نہ کیا جا سکے۔