اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایرانی ریال تاریخی کم ترین سطح پر، پاکستان میں ناقابل فہم طلب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی ریال
بلیک مارکیٹ میں شرح 18 لاکھ ریال فی ڈالر تک پہنچ گئی

ایران کی معیشت پر جنگ اور پابندیوں کے اثرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جہاں آج بدھ کے روز ایرانی ریال، امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر گر گیا۔ 

کرنسی ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق بلیک مارکیٹ میں ایک ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ جنگ کے آغاز سے قبل یہی شرح تقریباً 17 لاکھ ریال تھی۔ 

ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی بحری محاصرہ، تیل کی برآمدات میں کمی اور مالیاتی دباؤ نے ایرانی کرنسی کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران میں اگرچہ باضابطہ طور پر مختلف مقررہ ایکسچینج ریٹس رائج ہیں تاہم عملی طور پر بلیک مارکیٹ ہی حقیقی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے اور بونباست و آلان چاند جیسی ویب سائٹس غیر سرکاری شرح مبادلہ کے لیے اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریال کی مسلسل گراوٹ کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں امریکی بحری ناکہ بندی، غیر ملکی زرِ 

مبادلہ کے ذخائر میں کمی، عالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں شدید کمی شامل ہے۔ 

currency close up of engraved portrait 2026 03 17 00 31 14 utc
ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر

اس صورتحال کے باعث شہری بڑی تعداد میں اپنی رقوم کو ڈالر اور سونے میں تبدیل کر رہے ہیں، جس سے مقامی کرنسی پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ریال کی قدر میں اس غیر معمولی کمی کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں مہنگائی میں اضافہ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی اور درآمدی اشیا کی قلت جیسے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں۔ 

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ایران کو سنگین مالی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

جنگ، پابندیوں اور بحری محاصرے نے معیشت کو متاثر کیا

دوسری جانب، پاکستان کی غیر سرکاری اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کراچی، کوئٹہ اور لاہور کے کرنسی ڈیلرز کے مطابق 28 اپریل 2026 کو کیش مارکیٹ میں ایک کروڑ ’10 ملین‘ ایرانی ریال کا بنڈل تقریباً 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو کہ عالمی شرح کے مقابلے میں 3 سے 4 گنا زیادہ ہے۔
مقامی مارکیٹ میں موجودہ ریٹس کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً ایک ہزار ایرانی ریال کے برابر بتایا جا رہا ہے، جبکہ 10 روپے کے بدلے تقریباً 10 ہزار ریال اور ایک ہزار روپے کے بدلے تقریباً 10 لاکھ ریال مل رہے ہیں۔

iranian rial banknotes in close up still shot 2026 03 17 05 01 57 utc
پاکستان میں ریال کی قیمت عالمی شرح سے کئی گنا زیادہ

اس کے برعکس بین الاقوامی سطح پر ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4725 ایرانی ریال کے برابر ہے، جس کے مطابق ایک کروڑ ریال کی قیمت تقریباً 2 ہزار 100 روپے بنتی ہے۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق پاکستان میں ایرانی ریال کی بلند قیمتیں مقامی طلب، سرحدی تجارت اور مخصوص لین دین کی ضروریات کے باعث ہیں، جو عالمی مارکیٹ سے واضح طور پر مختلف رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔