ایران کا توانائی کا شعبہ اس وقت شدید دباؤ کی زد میں ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی پابندیاں اور بحری ناکابندی ہے۔
مزید پڑھیں
تہران غیر فروخت شدہ خام تیل کے ذخائر میں اضافے کے باعث اب غیر روایتی طریقوں سے تیل ذخیرہ کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، جن میں متروک گودام بھی شامل ہیں۔
ڈیٹا فرم ’کیپلر‘ کی رپورٹس کے مطابق پابندیوں کے باعث ایران کی تیل کی یومیہ پیداوار 1.2 ملین بیرل تک گر چکی ہے۔
پہلے 2 ملین بیرل یومیہ تھی، اب کم ہو کر صرف 5 لاکھ 60 ہزار بیرل تک محدود ہو گئی ہے۔
ذخیرہ اندوزی کے غیر روایتی ذرائع
ملک کے اندر اسٹوریج کی گنجائش ختم ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ایران اب ’اسکریپ اسٹوریج‘ اور متروک ٹینکوں کا استعمال کر رہا ہے۔
تہران اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ریل کے ذریعے چین کو تیل بھیجنے جیسے متبادل راستے تلاش کرنے کی بھی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا سخت موقف
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کو جلد پیٹرولیم کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ان کا بوسیدہ بنیادی ڈھانچہ اب پیداوار جاری رکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔
سمندری ناکابندی اور ’شیڈو فلیٹ‘ پر کریک ڈاؤن
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکابندی کے بعد سے ایران کی جانب جانے والے یا وہاں سے آنے والے 37 جہازوں کا رُخ موڑا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ سے منسلک تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
بقا کی جنگ
ایران کے لیے اب یہ صورت حال ایک بقا کی جنگ بن چکی ہے، جہاں ایک طرف توانائی کا انفرا اسٹرکچر مسلسل دباؤ میں ہے اور دوسری طرف عالمی منڈی میں سپلائی کا خلا موجود ہے۔
اگر ناکابندی برقرار رہی تو مئی کے وسط تک ایرانی تیل کی پیداوار مزید گر سکتی ہے۔