اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایران بڑی مشکل میں: تیل کے ذخائر بھر گئے، پیداوار میں نمایاں کمی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تیل کے ٹینکرز اور ایرانی تیل کی پیداوار میں کمی کو ظاہر کرتا گرافک یا تصویر
پابندیوں کے باعث ایران کی تیل کی یومیہ پیداوار 1.2 ملین بیرل تک گر چکی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کا توانائی کا شعبہ اس وقت شدید دباؤ کی زد میں ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی پابندیاں اور بحری ناکابندی ہے۔

مزید پڑھیں

تہران غیر فروخت شدہ خام تیل کے ذخائر میں اضافے کے باعث اب غیر روایتی طریقوں سے تیل ذخیرہ کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، جن میں متروک گودام بھی شامل ہیں۔

ڈیٹا فرم ’کیپلر‘ کی رپورٹس کے مطابق پابندیوں کے باعث ایران کی تیل کی یومیہ پیداوار 1.2 ملین بیرل تک گر چکی ہے۔ 

اس حوالے سے دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تیل کی لوڈنگ جو 

پہلے 2 ملین بیرل یومیہ تھی، اب کم ہو کر صرف 5 لاکھ 60 ہزار بیرل تک محدود ہو گئی ہے۔

ذخیرہ اندوزی کے غیر روایتی ذرائع

ملک کے اندر اسٹوریج کی گنجائش ختم ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ایران اب ’اسکریپ اسٹوریج‘ اور متروک ٹینکوں کا استعمال کر رہا ہے۔

تہران اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ریل کے ذریعے چین کو تیل بھیجنے جیسے متبادل راستے تلاش کرنے کی بھی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے۔

تیل کے ٹینکرز اور ایرانی تیل کی پیداوار میں کمی کو ظاہر کرتا گرافک یا تصویر
گنجائش ختم ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ’اسکریپ اسٹوریج‘ کا استعمال ہو رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی وزیر خزانہ کا سخت موقف

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کو جلد پیٹرولیم کے شدید  بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ان کا بوسیدہ بنیادی ڈھانچہ اب پیداوار جاری رکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔

سمندری ناکابندی اور ’شیڈو فلیٹ‘ پر کریک ڈاؤن

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکابندی کے بعد سے ایران کی جانب جانے والے یا وہاں سے آنے والے 37 جہازوں کا رُخ موڑا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ سے منسلک تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

بقا کی جنگ

ایران کے لیے اب یہ صورت حال ایک بقا کی جنگ بن چکی ہے، جہاں ایک طرف توانائی کا انفرا اسٹرکچر مسلسل دباؤ میں ہے اور دوسری طرف عالمی منڈی میں سپلائی کا خلا موجود ہے۔

اگر ناکابندی برقرار رہی تو مئی کے وسط تک ایرانی تیل کی پیداوار مزید گر سکتی ہے۔