اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

جنگ کے اثرات: کونسی خلیجی ریاست سب سے زیادہ نقصان میں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خلیجی معیشت ایران جنگ
عراق اور کویت سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل

ایک ماہرِ اقتصادیات نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کے خلیجی ممالک کی معیشتوں پر اثرات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ 

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی خطہ اب پہلے کی طرح یکساں اقتصادی اکائی کے طور پر نہیں چل رہا بلکہ مختلف ممالک میں اثرات اور فوائد کی سطح واضح طور پر مختلف ہو چکی ہے۔

سی این این کے مطابق ماہرِ اقتصادیات کارین ای. ینگ نے کہا ہے کہ جنگ کے اثرات نے خلیج میں ایک نئی اقتصادی نقشہ بندی پیدا کر دی ہے، جہاں ممالک اپنی معیشت کی نوعیت اور تیل پر انحصار کے مطابق ’جیتنے والے‘ اور ’نقصان اٹھانے والے‘ گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

ینگ کے مطابق عراق اور کویت ان ممالک میں شامل ہیں جو کشیدگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ان کا جغرافیائی محلِ وقوع کشیدہ علاقوں کے قریب ہے اور ان کی معیشتیں بڑی حد تک تیل کی برآمدات پر منحصر ہیں، جس کے باعث وہ بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ یا عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں

 خطرات میں اضافہ ان ممالک کی معیشتوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بلا تعطل تیل کی برآمدات پر منحصر ہوتا ہے۔

بحران سے بہتر نمٹنے والے ممالک

اس کے برعکس، ماہرِ اقتصادیات نے نشاندہی کی کہ خلیج کے بعض دیگر ممالک نے بحران کے اثرات سے بہتر طور پر خود کو ہم آہنگ کر لیا ہے کیونکہ انہوں نے گزشتہ برسوں میں اقتصادی تنوع کی حکمت عملی اپنائی، جس سے تیل پر انحصار کم ہوا۔

ایران جنگ نے خلیج میں نئی اقتصادی نقشہ بندی پیدا کر دی

انہوں نے مزید کہا کہ اس تنوع نے ان ممالک کو معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت دی ہے، چاہے وہ سیاحت اور مالیاتی خدمات جیسے متبادل شعبوں کو فروغ دینا ہو یا غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، جس سے انہیں علاقائی اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کرنے میں زیادہ لچک ملی۔
ینگ نے زور دیا کہ کسی ملک پر اثرات کی شدت کا انحصار صرف جغرافیہ یا سیاسی حالات پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی داخلی معیشت کی ساخت اور تنوع پر ہوتا ہے، اور جو معیشتیں زیادہ متنوع اور کھلی ہیں وہ اس جنگ کے اثرات سے کم متاثر ہوئی ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خلیجی معیشت کی نوعیت میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک اور کمزور معیشتوں کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر ایک ایسے علاقائی ماحول میں جہاں خطرات اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔