انہوں نے مزید کہا کہ اس تنوع نے ان ممالک کو معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت دی ہے، چاہے وہ سیاحت اور مالیاتی خدمات جیسے متبادل شعبوں کو فروغ دینا ہو یا غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، جس سے انہیں علاقائی اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کرنے میں زیادہ لچک ملی۔
ینگ نے زور دیا کہ کسی ملک پر اثرات کی شدت کا انحصار صرف جغرافیہ یا سیاسی حالات پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی داخلی معیشت کی ساخت اور تنوع پر ہوتا ہے، اور جو معیشتیں زیادہ متنوع اور کھلی ہیں وہ اس جنگ کے اثرات سے کم متاثر ہوئی ہیں۔
جنگ کے اثرات: کونسی خلیجی ریاست سب سے زیادہ نقصان میں؟
Overseas Post
- آبنائے ہرمز, ایران, تیل, جنگ, جی سی سی, خلیج, خلیجی ممالک