اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

سویفٹ سسٹم: مالی نظام کی طاقت، معیشت کا قاتل بھی ہوسکتا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سویفٹ سسٹم
سویفٹ رقم منتقل نہیں کرتا بلکہ بینکوں کے درمیان محفوظ پیغامات بھیجتا ہے

عالمی مالیاتی نظام کے مرکز میں، جہاں اربوں ڈالر لمحوں میں سرحدوں کے پار منتقل ہوتے ہیں، اب رقم نہ تو بیگوں میں لے جائی جاتی ہے اور نہ ہی روایتی طریقوں سے بلکہ یہ ایک پیچیدہ خفیہ پیغامات کے نظام کے ذریعے گزرتی ہے جو عالمی معیشت کی رفتار کو کنٹرول کرتا ہے۔

ان ہی نظاموں میں ایک نمایاں نام سویفٹ سسٹم کا ہے، جو نہ صرف تکنیکی بلکہ سیاسی طور پر بھی انتہائی با اثر بن چکا ہے، یہاں تک کہ بڑے عالمی بحرانوں میں بھی اس کا کردار نمایاں ہو گیا ہے۔ 

مزید پڑھیں

الجزیرہ نیٹ ورک کے مطابق سویفٹ، جس کا مطلب ’سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن‘ ہے، دراصل رقم منتقل نہیں کرتا جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ ایک انتہائی محفوظ پیغام رسانی کا نیٹ ورک ہے، جو کسی حد تک میسجنگ ایپس کی طرح کام کرتا ہے مگر یہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے مخصوص ہے۔

اس نظام کے ذریعے بینک ایک دوسرے کو تصدیق شدہ ادائیگی کے

 احکامات بھیجتے ہیں، جن میں مالی لین دین کی تفصیلات اور متعلقہ فریقین کی شناخت شامل ہوتی ہے، جس سے مختلف بینکاری چینلز کے ذریعے ادائیگیاں مکمل ہوتی ہیں۔

90e9c5e8 c7b1 4728 ab99 f6f519814823 2026 04 27

مالیاتی ترسیلات کا نظام

اس نظام کی اصل طاقت یہ ہے کہ یہ ایک مشترکہ زبان کی حیثیت رکھتا ہے جس پر دنیا کے تقریباً 200 ممالک میں پھیلے 11 ہزار سے زائد مالیاتی ادارے انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث اسے بین الاقوامی مالیاتی ترسیلات میں ایک طرح کی اجارہ داری حاصل ہو گئی ہے۔ 

سویفٹ یکساں معیار فراہم کرتا ہے جس سے لین دین تیزی اور مؤثر انداز میں مکمل ہوتے ہیں، جبکہ اس کی عدم موجودگی میں بینکوں کو کم محفوظ اور زیادہ مہنگے متبادل طریقوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، جس سے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور مالیاتی نظام پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

کسی ملک کو سویفٹ سے نکالنا مکمل مالیاتی تنہائی کے مترادف

تاہم، یہ تکنیکی کردار جلد ہی ایک سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل ہو گیا، کیونکہ کسی بھی ملک کو اس نظام سے خارج کرنا تقریباً مکمل مالیاتی تنہائی کے مترادف ہے۔
ایسے ممالک بنیادی درآمدات جیسے خوراک اور ادویات کی ادائیگی کرنے یا اپنی برآمدات، خصوصاً تیل و گیس، کی آمدنی حاصل کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید معاشی بحران اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے۔
یہ اثرات واضح طور پر اس وقت دیکھے گئے جب 2012 میں ایران اور 2022 میں یوکرین بحران کے تناظر میں بڑے روسی بینکوں کو اس نظام سے باہر کیا گیا۔

یہ اثر و رسوخ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر اس نظام پر اصل کنٹرول کس کا ہے؟ 

سویفٹ باضابطہ طور پر بیلجیم میں قائم ہے اور یورپی قوانین کے تحت ایک عالمی کوآپریٹو ادارے کے طور پر چلایا جاتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پر بالواسطہ امریکی اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی لین دین میں ڈالر کی بالادستی ہے۔ 

دنیا بھر کے بینک اور مالیاتی ادارے امریکی پالیسیوں کی خلاف ورزی سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ کہیں انہیں پابندیوں یا ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے خارج نہ کر دیا جائے، اور یہی عنصر واشنگٹن کو سویفٹ کو ایک معاشی دباؤ کے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

close up of hands using laptop keyboard on desktop 2026 01 11 08 35 49 utc
200 ممالک میں 11 ہزار سے زائد مالیاتی ادارے اس پر انحصار کرتے ہیں

سویفٹ سسٹم اب محض ایک تکنیکی ڈھانچہ نہیں رہا جو مالیاتی ترسیلات کو آسان بنائے، بلکہ یہ عالمی نظام کی طاقت کے اہم ستونوں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں معاشی مفادات اور جغرافیائی سیاسی حکمت عملیاں آپس میں جڑ چکی ہیں۔ 

اگرچہ اسے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر بنایا گیا تھا، مگر عالمی تبدیلیوں نے اسے اس کی اصل حدود سے آگے بڑھا دیا ہے اور اب یہ اقتصادی تنازعات کے انتظام کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ 

درحقیقت، مالیاتی پیغامات کے بہاؤ پر کنٹرول کا مطلب ہے عالمی معیشت کی شریانوں پر اختیار حاصل کرنا اور ضرورت پڑنے پر انہیں روک دینا ہے۔