کسی ملک کو سویفٹ سے نکالنا مکمل مالیاتی تنہائی کے مترادف
تاہم، یہ تکنیکی کردار جلد ہی ایک سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل ہو گیا، کیونکہ کسی بھی ملک کو اس نظام سے خارج کرنا تقریباً مکمل مالیاتی تنہائی کے مترادف ہے۔
ایسے ممالک بنیادی درآمدات جیسے خوراک اور ادویات کی ادائیگی کرنے یا اپنی برآمدات، خصوصاً تیل و گیس، کی آمدنی حاصل کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید معاشی بحران اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے۔
یہ اثرات واضح طور پر اس وقت دیکھے گئے جب 2012 میں ایران اور 2022 میں یوکرین بحران کے تناظر میں بڑے روسی بینکوں کو اس نظام سے باہر کیا گیا۔
یہ اثر و رسوخ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر اس نظام پر اصل کنٹرول کس کا ہے؟
سویفٹ باضابطہ طور پر بیلجیم میں قائم ہے اور یورپی قوانین کے تحت ایک عالمی کوآپریٹو ادارے کے طور پر چلایا جاتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پر بالواسطہ امریکی اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی لین دین میں ڈالر کی بالادستی ہے۔
دنیا بھر کے بینک اور مالیاتی ادارے امریکی پالیسیوں کی خلاف ورزی سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ کہیں انہیں پابندیوں یا ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے خارج نہ کر دیا جائے، اور یہی عنصر واشنگٹن کو سویفٹ کو ایک معاشی دباؤ کے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی طاقت دیتا ہے۔
سویفٹ سسٹم اب محض ایک تکنیکی ڈھانچہ نہیں رہا جو مالیاتی ترسیلات کو آسان بنائے، بلکہ یہ عالمی نظام کی طاقت کے اہم ستونوں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں معاشی مفادات اور جغرافیائی سیاسی حکمت عملیاں آپس میں جڑ چکی ہیں۔
اگرچہ اسے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر بنایا گیا تھا، مگر عالمی تبدیلیوں نے اسے اس کی اصل حدود سے آگے بڑھا دیا ہے اور اب یہ اقتصادی تنازعات کے انتظام کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔
درحقیقت، مالیاتی پیغامات کے بہاؤ پر کنٹرول کا مطلب ہے عالمی معیشت کی شریانوں پر اختیار حاصل کرنا اور ضرورت پڑنے پر انہیں روک دینا ہے۔