اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ اور شی آمنے سامنے: دنیا کی نظریں بیجنگ سمٹ پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ شی جن پنگ ملاقات
ٹرمپ کے ہمراہ بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان بھی موجود

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم سربراہی اجلاس کا آغاز ہوگیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے تعلقات میں استحکام اور تعاون پر زور دیا۔
اجلاس میں ایران جنگ، آبنائے ہرمز، عالمی توانائی بحران، تجارتی کشیدگی، چپس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم عالمی معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
عالمی سرمایہ کار اس ملاقات کو عالمی معیشت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم سربراہی اجلاس کا آغاز آج جمعرات کو بیجنگ میں ہوا، جہاں دونوں رہنماؤں نے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان استحکام اور تعاون پر زور دیا گیا جبکہ یہ ملاقات بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور اقتصادی کشیدگی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ ہم آپ کے ساتھ مل کر اپنی دوطرفہ تعلقات میں استحکام اور کامیابی کی نئی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ ایک ساتھ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس سربراہی اجلاس کو ’ہمارے دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اجلاس‘ قرار دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے تعلقات اپنی بہترین سطح پر ہیں‘۔

ٹرمپ نے شی جن پنگ اور چینی عوام کی جانب سے شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑے تجارتی تعلقات کے قیام کی امید ظاہر کی۔

یہ گزشتہ 9 برسوں میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے، جبکہ آخری بار بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔

صدر ٹرمپ سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان چینی دارالحکومت پہنچے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اس اجلاس کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ 

توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات میں ایران کے ساتھ جنگ، تجارت، توانائی، الیکٹرانک چپس اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کے مستقبل پر بات چیت ہوگی۔

654654654 4
دونوں ممالک نے تجارت اور فوجی رابطے بڑھانے پر زور دیا

یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں۔ 

دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی ہے۔

 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کو خلیجی خطے میں اپنے رویے پر نظرثانی پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ 

امریکا اور چین
کے تجارتی تعلقات
پر اہم مذاکرات

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا استحکام براہِ راست چین کے مفاد میں ہے کیونکہ بیجنگ خطے سے توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
ادھر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی تعلقات بھی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ٹیرف، نایاب معدنیات، ٹیکنالوجی پابندیوں اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اختلافات برقرار ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ہمراہ اس دورے میں کئی بڑے امریکی کاروباری شخصیات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان بھی موجود ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکٹرانک چپس اور عالمی سپلائی چین جیسے معاملات اس سربراہی اجلاس میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے تاہم واشنگٹن اور بیجنگ کھلے رابطوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ تعلقات کسی بڑی اقتصادی یا عسکری محاذ آرائی کی طرف نہ بڑھیں۔

مارکو روبیو پہلے ہی چین کو امریکا کو درپیش سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی چیلنج قرار دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی استحکام کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کو حکمتِ عملی کے تحت سنبھالنا ضروری ہے۔

565464
عالمی منڈیاں سمٹ کے نتائج پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں (فوٹو: العربیہ)

یہ سربراہی اجلاس اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک سخت مقابلے کے باوجود توانائی، تجارت اور عالمی سلامتی جیسے اہم معاملات میں ضروری تعاون برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اس اجلاس سے سامنے آنے والے ہر اشارے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، خصوصاً چین اور امریکا کے تجارتی تعلقات کے مستقبل اور ایران کے حوالے سے کشیدگی کم کرنے میں چین کے ممکنہ کردار پر، کیونکہ ان عوامل کا براہِ راست اثر عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔