امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان بیجنگ میں دو روزہ سربراہی اجلاس عالمی سیاست اور معیشت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات میں تجارتی جنگ، ٹیرف، مصنوعی ذہانت، ایران، تائیوان، توانائی بحران اور عالمی سپلائی چین جیسے حساس معاملات پر گفتگو ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ اجلاس عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور ٹیکنالوجی کی دوڑ کا رخ بدل سکتا ہے۔
تجارتی جنگ
اور بھاری ٹیرف
مذاکرات کا
مرکزی محور
بن گئے
توقع ہے کہ موجودہ مذاکرات میں دونوں ممالک گزشتہ معاہدوں کے تحت محصولات کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر اتفاق کریں گے۔
امریکہ اس وقت چینی مصنوعات پر 30 فیصد جبکہ چین امریکی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کئے ہوئے ہے۔
فینٹانائل منشیات بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تنازع ہے۔
واشنگٹن کا الزام ہے کہ چین اس منشیات کی تیاری اور میکسیکو کے کارٹیلز تک رسائی روکنے میں ناکام رہا ہے۔
اسی دباؤ کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کیے تھے۔
اب امریکی انتظامیہ نئی پابندیوں اور متبادل اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور بڑی کمپنیاں
ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین امریکی برآمدات میں اضافہ کرے، جن میں بوائنگ طیارے، زرعی اجناس اور مائع قدرتی گیس شامل ہیں۔
دوسری جانب چین کا مطالبہ ہے کہ امریکہ جدید سیمی کنڈکٹرز کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرے اور چینی سرمایہ کاری کے لیے امریکی مارکیٹ میں رکاوٹیں کم کرے۔
ٹرمپ اپنے ساتھ کئی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان کو بھی چین لے گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اس سربراہی اجلاس کے نتیجے میں کئی تجارتی معاہدے متوقع ہیں، جن میں چین کی جانب سے بوئنگ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
زراعت، توانائی اور خلائی شعبے سے متعلق تعاون بھی زیر غور ہے۔
امریکی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 202 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے سخت تجارتی پالیسیاں اپنائیں۔
ماہرین کے مطابق واشنگٹن اس اجلاس میں پانچ بڑے شعبوں پر توجہ دے رہا ہے: بوئنگ، سویابین، گائے کا گوشت، تجارتی کونسل اور سرمایہ کاری کونسل۔
ٹیکنالوجی سرد
جنگ پر
بڑے فیصلوں
کا امکان
چین دنیا میں سویابین کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، لیکن تجارتی کشیدگی کے دوران اس نے امریکی سویابین خریدنا بند کر دیا تھا تاہم بعد میں محدود خریداری دوبارہ شروع ہوئی۔
بین الاقوامی معیشت کے ماہر نوار السعدی کے مطابق اس اجلاس میں سب سے اہم وہ معاملات ہوں گے جن کا کھلے عام ذکر نہیں کیا جائے گا، جیسے مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات، توانائی منڈیاں اور کرنسی پالیسیوں سے متعلق خفیہ مفاہمتیں۔
ان کے مطابق یہی عوامل آئندہ دہائی میں عالمی طاقت کے توازن کا تعین کریں گے۔
امریکہ اور چین اس وقت مصنوعی ذہانت کے میدان میں شدید مقابلے میں مصروف ہیں۔ برطانوی اخبار گارجین نے اس صورتحال کو ’ٹیکنالوجی کی سرد جنگ‘ قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے چین پر امریکی اے آئی کمپنیوں کی دانشورانہ ملکیت چرانے کا الزام لگایا، جسے بیجنگ نے مسترد کر دیا۔
دوسری طرف چین کا مطالبہ ہے کہ امریکہ این ویڈیا کو جدید چپس چینی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی اجازت دے۔
اسی دوران چین نے میٹا کو ایک چینی نژاد اے آئی کمپنی ’مانوس‘ خریدنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور شی مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال، خاص طور پر حیاتیاتی ہتھیاروں، سائبر حملوں اور حساس انفراسٹرکچر کے خلاف اس کے استعمال پر بھی گفتگو کریں گے۔
بعض ماہرین نے دونوں ممالک کے درمیان ’ہاٹ لائن‘ قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ کسی اے آئی بحران کی صورت میں کشیدگی کم کی جا سکے۔
ایران، توانائی بحران اور چین
چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جس کی وجہ سے امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں۔
واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ ایران کو چینی کمپنیوں کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھا رہی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق امریکی حکام اس بات پر بھی تشویش رکھتے ہیں کہ ایران کو ممکنہ طور پر چینی اسلحہ یا ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکتی ہے اور یہ معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔
چینی وزارت خارجہ نے بارہا امریکی پابندیوں کو ’غیر قانونی اور یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے مخالفت کی ہے۔
بیجنگ کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کو چین پر الزامات لگانے کے بجائے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو مستحکم بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔
دونوں ممالک کو
ایک دوسرے کی شدید ضرورت ہے
سربراہی اجلاس سے مکمل معاہدے کے بجائے ایک ’عملی تجارتی جنگ بندی‘ سامنے آنے کا زیادہ امکان ہے، کیونکہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی شدید ضرورت ہے۔امریکہ کو توانائی بحران، مہنگائی اور آبنائے ہرمز کے مسئلے کے حل کے لیے چین کے تعاون کی ضرورت ہے، جبکہ چین اپنی برآمدات بڑھانے اور ٹیکنالوجی پر عائد امریکی پابندیاں کم کروانے کا خواہاں ہے۔
گزشتہ دسمبر میں ٹرمپ نے تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکج کی منظوری دی، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم یہ اسلحہ ابھی تک تائیوان نہیں پہنچایا گیا۔
چین، تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے اور اسے اسلحہ فراہم کرنے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ بحر الکاہل کے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی امریکہ اور چین دونوں کے مفاد میں نہیں۔
اگرچہ یہ معاملہ سیاسی اور سکیورٹی نوعیت کا ہے لیکن اس کے بڑے معاشی اثرات بھی ہیں۔
اسلحہ معاہدے سے امریکی دفاعی صنعت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچے گا، یہی وجہ ہے کہ کئی دفاعی کمپنیوں کے نمائندے بھی ٹرمپ کے وفد کے ساتھ چین پہنچے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی یہ ملاقات صرف دو رہنماؤں کی ملاقات نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں عالمی تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاست کے مستقبل کا تعین کرنے والی اہم ترین ملاقاتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔