مشرقِ وسطیٰ اس وقت سخت کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ سعودی علاقائی وژن خطے کو ترقی اور امن کی نئی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
مزید پڑھیں
امریکہ، اسرائیل اور ایران کی لڑائی جہاں خطے کو بڑی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، وہیں مملکت نے اپنی دانش مندی کے ذریعے خطے کو اس تباہ کن صورتحال سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
علاقائی کشیدگی اور سعودی مؤقف
خطے میں اس وقت دو متضاد سوچیں کارفرما ہیں۔ ایک نقطہ نظر جنگ میں کودنے کا حامی ہے، جبکہ دوسرا، جس کی نمائندگی سعودی عرب کر
رہا ہے، کسی ایسی جنگ سے بچنے کا خواہاں ہے جس کے اثرات عرب اور ایرانی عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہوں۔
سعودی قیادت کا کہنا ہے کہ جنگ کا راستہ تباہی اور بربادی کا متقاضی ہے، جبکہ ترقی اور امن ہی خطے کا مستقبل ہے۔
ناکام علاقائی تجربات سے سبق
تاریخ گواہ ہے کہ خطے میں کئی نظریاتی منصوبے متعارف کرائے گئے، جیسے ناصری یا بعثی تحریکیں، جو اتحاد کے بجائے تقسیم اور انتشار کا باعث بنیں۔
ان منصوبوں نے معاشرتی ترقی کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو جنم دیا، جس سے نہ صرف استحکام متاثر ہوا بلکہ بیرونی مداخلت کے دروازے بھی کھلے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ان تلخ تجربات سے سیکھتے ہوئے ایک تعمیری راستہ منتخب کیا ہے۔
سعودی توازن اور پائیدار امن کا خواب
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ’احتیاط اور حکمت‘ پر مبنی ہے۔
2018 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ’مستقبل سرمایہ کاری اقدام‘ (FII) کے دوران مشرقِ وسطیٰ کو ’نیا یورپ‘بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
اس وژن کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ مشترکہ ترقی کے ثمرات حاصل کیے جا سکیں۔
سفارتکاری اور امن کی کوششیں
سعودی عرب نے خطے میں استحکام لانے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے ہیں۔
2021 میں قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی، 2023 میں چین کی ثالثی میں ایران کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ اور ترکی کے ساتھ اقتصادی و سفارتی تعلقات کا فروغ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاض تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
فلسطینی کاز: اصولی مؤقف پر ثابت قدمی
فلسطین کا مسئلہ سعودی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔
ریاض نے ’صدی کی ڈیل ‘ اور ‘ابراہیمی معاہدوں’ جیسی تجاویز کو مسترد کیا کیونکہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتی تھیں۔
2025 کے ’اعلانِ نیویارک‘ کے بعد 159 ممالک کا فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا، سعودی عرب کی مسلسل سفارتی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
سعودی عرب کا وژن صرف اپنی ترقی تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے خطے کو ترقی کی شاہراہ پر لانے کا عزم ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری رسہ کشی کا مقصد پورے خطے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے، تاہم سعودی عرب کی حکمتِ عملی اس مذموم مقصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو خطے کو مزید ٹکڑوں میں بٹنے سے روک رہی ہے۔
سعودی عرب نے ثابت کیا ہے کہ بڑی طاقت وہی ہے جو جنگ کے بجائے امن اور تعمیر کو ترجیح دے۔
خطے کی موجودہ صورتحال میں سعودی قیادت کا ٹھنڈا مزاج اور طویل المدتی وژن نہ صرف ریاض بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بقا اور ترقی کا ضامن بن چکا ہے۔