اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

سماعت کو خطرہ: جدید ٹیکنالوجی سے کانوں کی حفاظت کیسے کریں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جدید ہیڈ فونز سے سماعت کی حفاظت اور کانوں کا بچاؤ
آج کے دور میں ہیڈ فونز ہماری ڈیجیٹل شناخت کا حصہ بن چکے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج کے دور میں ہیڈ فونز صرف ایک تکنیکی آلہ نہیں بلکہ ہماری ڈیجیٹل شناخت کا حصہ بن چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

صحافی ہوں، پروگرامر یا مسافر، ہر کوئی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں یا سفر کے دوران شور سے بچنے کے لیے ان کا سہارا لیتا ہے۔

ہیڈ فونز برقی سگنلز کو آواز میں تبدیل کرنے کے لیے ’الیکٹرو میگنیٹک‘ اصول کا استعمال کرتے ہیں۔ 

ہیڈ فون کے اندر موجود کوائل اور مقناطیس مل کر ایک باریک جھلی کو متحرک کرتے ہیں، جس سے ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں جنہیں ہمارا 

دماغ آواز کی صورت میں سمجھتا ہے۔

ہیڈ فونز میں جدید خصوصیات

ماڈرن ہیڈ فونز میں اب مصنوعی ذہانت کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ ’ایکٹو نائز کینسلیشن‘ ٹیکنالوجی بیرونی شور کو ختم کرتی ہے، جبکہ سینسرز کی مدد سے آواز کو مقامی فضا میں محفوظ کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ’بون کنڈکشن‘ جیسی جدید ٹیکنالوجی آواز براہ راست کان کی ہڈی کے ذریعے پہنچاتی ہے۔

جدید ہیڈ فونز سے سماعت کی حفاظت اور کانوں کا بچاؤ
ہیڈ فونز برقی سگنلز کو آواز میں تبدیل کرنے کے لیے ’الیکٹرو میگنیٹک‘ اصول کا استعمال کرتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

سماعت کے لیے خفیہ خطرات

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اس وقت ایک ارب سے زائد نوجوان مستقل سماعت سے محرومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ہیڈ فونز کا زیادہ استعمال کان کے اندرونی حصوں میں موجود باریک سیلز کو نقصان پہنچاتا ہے، جو ایک بار ختم ہو جائیں تو دوبارہ نہیں بن سکتے۔

ساٹھ/ساٹھ (60/60) کا سنہری اصول

امریکن اکیڈمی آف آڈیالوجی کے ماہرین نے سماعت کی حفاظت کے لیے 60/60 کا قاعدہ متعارف کرایا ہے۔

اس اصول کے مطابق آواز کو ڈیوائس کی کل صلاحیت کے 60 فیصد سے زیادہ نہ رکھیں اور ہر گھنٹے بعد کم از کم 5 سے 10 منٹ کا وقفہ ضرور لیں۔

جدید ہیڈ فونز سے سماعت کی حفاظت اور کانوں کا بچاؤ
ماڈرن ہیڈ فونز میں اب مصنوعی ذہانت کا استعمال عام ہو رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

کام کی جگہ پر حفاظت

سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی ہدایات کے مطابق ان ایئر ہیڈ فونز کی بجائے اوور ایئر ہیڈ فونز کا انتخاب بہتر ہے۔

اس کے علاوہ ڈیوائسز میں موجود ہیڈ فون سیفٹی  فیچر کو فعال کریں۔ اسی طرح ہیڈ فونز کو جراثیم سے پاک رکھنا بھی سماعت کی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔

احتیاط ہی واحد علاج ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ شور سے ہونے والی سماعت کی کمی کا کوئی مستقل علاج نہیں، اس لیے احتیاط ہی بہترین حکمت عملی ہے۔

ٹیکنالوجی کا مقصد انسانی حواس کو تقویت دینا ہے، نہ کہ انہیں کمزور کرنا، لہذا اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا ہماری پیشہ ورانہ اور ذاتی ضرورت ہے۔

جدید ہیڈ فونز سے سماعت کی حفاظت اور کانوں کا بچاؤ
اس وقت ایک ارب سے زائد نوجوان مستقل سماعت سے محرومی کے خطرے سے دوچار ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)