مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں پرانے سیکیورٹی مفروضے اب کارگر نہیں رہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے کے استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
اسرائیل کے ہاتھوں پیدا غزہ کا شدید انسانی بحران، اسرائیل ہی کی جارحیت سے لبنان میں دوبارہ پھوٹنے والا تشدد اور ایرانی حملوں سے بحری تجارتی راستوں کی غیر یقینی صورتحال نے خلیجی ممالک کو اپنی اسٹریٹجک ترجیحات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ناکام امریکی پالیسی اور خلیجی خدشات
رپورٹ کے مطابق دہائیوں تک امریکہ خطے کی بنیادی طاقت رہا، لیکن حالیہ برسوں میں واشنگٹن کے وعدوں پر اعتماد کم ہوا ہے:
- ناقابلِ پیش گوئی پالیسی: افغانستان سے انخلا (2021) اور امریکی داخلی سیاست کی وجہ سے خلیجی ممالک اب واشنگٹن کی سیکیورٹی کو پائیدار نہیں سمجھتے۔
- بائنری انتخاب کا دباؤ: امریکہ اکثر خطے کے ممالک کو ’ایران کی مخالفت یا اسرائیل کی حمایت‘ جیسے دوٹوک انتخاب پر مجبور کرتا ہے، جو کہ خلیجی ممالک کی اقتصادی تنوع کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
- براہِ راست خطرات: فروری 2026 میں شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی ایرانی تصادم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خلیجی ممالک براہِ راست فریق نہ ہونے کے باوجود ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آ سکتے ہیں۔
چین: مستحکم اور غیر روایتی متبادل
ماہرین کے مطابق چین خود کو امریکہ کے عسکری متبادل کے طور پر پیش نہیں کر رہا، بلکہ اس کی کشش اس کے منفرد سفارتی اور اقتصادی ماڈل میں ہے:
سیاسی استحکام: بیجنگ عدم مداخلت اور خود مختاری کے احترام پر زور دیتا ہے، جس سے اس کی پالیسی قابلِ پیش گوئی رہتی ہے۔
کامیاب ثالثی: 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کا کردار اس کے اثر و رسوخ کی بڑی مثال ہے۔
غیر مشروط شراکت داری: چین اقتصادی تعاون (Belt and Road Initiative) کے لیے سیاسی وفاداری یا مخصوص بلاک میں شمولیت کی شرط نہیں رکھتا۔
عسکری غیر جانبداری: چین کا کوئی بڑا عسکری اتحاد نہیں ہے، جس کی وجہ سے تمام فریق اس کے ساتھ کام کرنے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔
خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر جیسے ممالک امریکہ کو مکمل طور پر چھوڑ نہیں رہے، بلکہ وہ مستقبل میں نقصانات سے بچاؤ کا بندوبست (Strategic Hedging) کر رہے ہیں۔
- وہ کسی ایک طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے سیکیورٹی، توانائی، ٹیکنالوجی اور فنانس کے شعبوں میں متعدد شراکت دار بنا رہے ہیں۔
- چین ان کے لیے ایک ایسا متبادل ہے جو آئیڈیولوجیکل مداخلت کے بغیر ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے لیے چین کے ساتھ کام کرنا واشنگٹن کو مسترد کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی بقا اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک طرح کی ’انشورنس پالیسی‘ ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے، بیجنگ کا غیر عسکری اور مستحکم انداز اسے عرب دنیا کے لیے ایک قابلِ بھروسا ساتھی بناتا ہے۔