15 مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2مساجد میں برینٹن ٹارنٹ نامی ایک سفید فام انتہا پسند نے 51 نمازیوں کو شہید کر دیا۔
مزید پڑھیں
اس سفاکانہ واقعے کے دوران اس نے ’دی گریٹ ریپلیسمنٹ‘ (The Great Replacement) نامی ایک منشور جاری کیا، جس میں مسلمانوں اور تارکینِ وطن کے خلاف زہر اگلا گیا اور ’سفید فام نسل کشی‘ کے خاتمے کا دعویٰ کیا گیا۔
فرانسیسی مصنف رینو کامو نے 2010 میں ’دی گریٹ ریپلیسمنٹ‘ کا نظریہ پیش کیا۔
اُن کا دعویٰ تھا کہ یورپ میں مقامی آبادی کو منظم طریقے سے افریقہ اور عرب ممالک سے آنے والے غیر ملکیوں سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس نظریے کے مطابق یورپی اشرافیہ اقتصادی مفادات کے تحت اس تبدیلی کو فروغ دے رہی ہے۔
سیاسی اثرات اور انتہا پسندانہ بیانیہ
اگرچہ یہ نظریہ اعداد و شمار کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا، مگر یہ یورپ اور امریکہ کی دائیں بازو کی سیاست میں سرایت کر چکا ہے۔
ڈنمارک کی پیا کرسگارڈ، ہنگری کے وکٹر اوربان اور فرانس کی مارین لو پین جیسے رہنماؤں نے اسے اپنی سیاسی مہم کا حصہ بنایا، جس نے مغرب میں نسل پرستانہ رجحانات کو تقویت دی۔
سازش کے پیچھے کارفرما کردار
رینو کامو نے اس نظریے میں 3 فریقوں کی نشاندہی کی: تارکینِ وطن، مقامی یورپی باشندے اور حکمران طبقہ، میڈیا و سیاستدان۔
اُن کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے، جنہیں وہ ’دافوکریسی‘کہتے ہیں، سستے مزدوروں اور صارفین کی فراہمی کے لیے اس تبدیلی کو ایک ایجنڈے کے تحت لاگو کر رہے ہیں۔
تاریخی جڑیں اور نسل پرستانہ نظریات
یہ خوف کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ 1870 میں فرانس کی پرشیا سے شکست کے بعد پیدا ہوا۔ اُس وقت فرانسیسیوں کو اپنی آبادی میں کمی کا ڈر ستانے لگا تھا۔
1916 میں میڈیسن گرانٹ کی کتاب ’دی گریٹ ریس‘ (The Great Race) نے بھی امریکہ میں تارکینِ وطن کے خلاف نفرت پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس نے آگے چل کر نازی نظریات کی آبیاری کی۔
میڈیا کا کردار اور عوامی خوف
فرانسیسی جریدے ’لو فیگارو‘ نے 1985 میں ایک سرورق شائع کیا جس میں فرانس کے قومی نشان کو نقاب پہنے دکھایا گیا۔
اس قسم کے میڈیا مواد نے غیر ملکیوں کے بارے میں عوامی شکوک و شبہات کو سیاسی ہتھکنڈے میں بدل دیا۔ یہ منفی پروپیگنڈا لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ گیا کہ تارکینِ وطن اُن کی ثقافتی شناخت کے لیے خطرہ ہیں۔
ڈیجیٹل دور اور انتہا پسندی کا پھیلاؤ
سوشل میڈیا الگورتھمز نے اس نظریے کو ’میمز‘ (Memes) کے ذریعے مزید ہوا دی اور مغربی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی کو تارکینِ وطن کے خلاف نفرت میں تبدیل کر دیا گیا۔
انتہا پسند اب اس نظریے کو ایک ’حیاتیاتی جنگ‘ قرار دیتے ہیں، جہاں وہ خواتین کے تولیدی عمل کو نسل کی بقا کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
خونریز حملے اور نظریاتی انتہاپسندی
ناروے کے اینڈرز بریوک سے لے کر امریکہ کے ایل پاسو اور بوفالو حملوں تک، ہر حملہ آور نے ’گریٹ ریپلیسمنٹ‘ کو اپنے تشدد کی بنیاد بنایا۔
اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں نے بھی متنبہ کیا ہے کہ یہ سازشی تھیوری براہ راست پرتشدد انتہا پسندی کو ہوا دے رہی ہے، جہاں قاتل خود کو ’ثقافتی دفاع‘ کا علمبردار سمجھنے لگتے ہیں۔
اعداد و شمار بمقابلہ پروپیگنڈا
فرانس کے ماہرِ آبادیات ہیروی لو برا کے مطابق یہ تھیوری اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتی۔
2050ء تک فرانس میں تارکینِ وطن اور ان کی نسلوں کی تعداد کل آبادی کے محض 12 سے 20 فیصد تک ہی پہنچ پائے گی۔ لہذا مقامی آبادی کے مٹ جانے کا دعویٰ ریاضیاتی طور پر ایک سراسر جھوٹ اور سیاسی ڈھونگ ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ’دی گریٹ ریپلیسمنٹ‘ کا نظریہ حقیقت پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ایک سیاسی آلہ کار ہے جسے ناکام سیاستدان اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ ہتھیار سفید فام متوسط طبقے کو یہ باور کرانے کا ایک حربہ ہے کہ ان کے مسائل کی جڑیں حکومتی پالیسیوں میں نہیں، بلکہ تارکینِ وطن میں ہیں۔