متحدہ عرب امارات نے ایرانی ڈرون حملوں کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر بعض تیل تنصیبات اور حساس مقامات کے گرد دھاتی جال اور بڑے فولادی ڈھانچے نصب کرنا شروع کردیے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں دبئی ایئرپورٹ کے قریب آئل ٹینکوں پر بنائے گئے حفاظتی ’ڈرون کیجز‘ دکھائے گئے، جن کا مقصد خودکش ڈرونز کو براہِ راست ہدف تک پہنچنے سے روکنا اور ممکنہ نقصان کم کرنا ہے۔
تصاویر کے مطابق نئی حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت حساس تنصیبات اور آئل ٹینکوں کے اوپر اور اطراف میں فولادی پنجرے اور دھاتی جال نصب کیے جا رہے ہیں، تاکہ ڈرون اور اصل ہدف کے درمیان ایک حفاظتی رکاوٹ پیدا کی جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے خاص طور پر ایرانی ’شاہد-136‘ طرز کے خودکش ڈرونز سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جو براہِ راست ٹکراؤ کے ذریعے دھماکہ کرتے ہیں۔
اندازوں کے مطابق یہ جال مکمل طور پر حملہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ نقصان کم کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ ڈرون اصل ہدف تک درست انداز میں نہ پہنچ سکے اور ٹکرانے سے پہلے ہی پھٹ جائے، یا دھماکے کی شدت کم ہو جائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خلیجی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک نئی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں جدید فضائی دفاعی نظاموں کے ساتھ کم لاگت فزیکل حفاظتی اقدامات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب مسلسل ڈرون حملوں نے ثابت کیا کہ جدید ترین دفاعی نظام بھی بیک وقت آنے والے ڈرونز کے جھنڈ کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق دھاتی جال پیچیدہ میزائل دفاعی نظاموں کے مقابلے میں ایک عملی، کم خرچ اور فوری نافذ کیے جانے والا حل ہیں، خاص طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے نسبتاً سست رفتار ڈرونز کے خلاف۔
تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ حفاظتی ڈھانچے بیلسٹک میزائلوں یا تیز رفتار کروز میزائلوں کے خلاف محدود مؤثریت رکھتے ہیں۔