اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

ڈرون حملوں کا خوف؟ دبئی کے تیل ذخائر پر فولادی پنجرے نصب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کم لاگت دفاعی نظام خلیجی دفاعی پالیسی کا نیا حصہ بن گیا

متحدہ عرب امارات نے ایرانی ڈرون حملوں کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر بعض تیل تنصیبات اور حساس مقامات کے گرد دھاتی جال اور بڑے فولادی ڈھانچے نصب کرنا شروع کردیے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں دبئی ایئرپورٹ کے قریب آئل ٹینکوں پر بنائے گئے حفاظتی ’ڈرون کیجز‘ دکھائے گئے، جن کا مقصد خودکش ڈرونز کو براہِ راست ہدف تک پہنچنے سے روکنا اور ممکنہ نقصان کم کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اپنی بعض تیل اور حساس تنصیبات کے گرد نئے حفاظتی انتظامات شروع کر دیے ہیں، جن کے تحت بڑے دھاتی جال اور فولادی ڈھانچے نصب کیے جا رہے ہیں۔ 

خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا مقصد ایرانی ڈرون حملوں کے خطرات کو کم کرنا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کم لاگت مگر انتہائی مؤثر فضائی حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کی جانب سے جاری حالیہ تصاویر میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع آئل ٹینکوں کے گرد بڑے دھاتی ڈھانچے دکھائے گئے ہیں۔ 

یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابوظبی اب اس حقیقت کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے کہ فضائی خطرات صرف روایتی بیلسٹک میزائلوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ خودکش ڈرونز بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور حساس تنصیبات کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔

امارات کو
ایرانی خودکش
ڈرونز سے
بڑے حملوں
کا خدشہ

تصاویر کے مطابق نئی حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت حساس تنصیبات اور آئل ٹینکوں کے اوپر اور اطراف میں فولادی پنجرے اور دھاتی جال نصب کیے جا رہے ہیں، تاکہ ڈرون اور اصل ہدف کے درمیان ایک حفاظتی رکاوٹ پیدا کی جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے خاص طور پر ایرانی ’شاہد-136‘ طرز کے خودکش ڈرونز سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جو براہِ راست ٹکراؤ کے ذریعے دھماکہ کرتے ہیں۔
اندازوں کے مطابق یہ جال مکمل طور پر حملہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ نقصان کم کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ ڈرون اصل ہدف تک درست انداز میں نہ پہنچ سکے اور ٹکرانے سے پہلے ہی پھٹ جائے، یا دھماکے کی شدت کم ہو جائے۔

ایسا لگتا ہے کہ امارات نے یہ دفاعی ماڈل روس، یوکرین جنگ سے متاثر ہو کر اپنایا ہے، جہاں گزشتہ مہینوں میں ٹینکوں، گوداموں اور فوجی تنصیبات پر ’ڈرون کیجز‘ یا فولادی پنجروں کا استعمال بڑھ گیا تھا تاکہ کم قیمت ڈرون حملوں سے بچاؤ کیا جا سکے، جو روایتی فضائی دفاعی نظاموں پر دباؤ ڈال رہے تھے۔

ChatGPT Image 15 مايو 2026، 01 06 02 م
روس۔یوکرین جنگ کے ’ڈرون کیجز‘ ماڈل سے متاثر منصوبہ

اماراتی منصوبے کی حساسیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ تصاویر میں نظر آنے والے آئل ٹینک دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ایندھن ذخیرہ و تقسیم مراکز کے قریب واقع ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق اگر ان مقامات کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے تو اس کے بڑے معاشی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی چینل نے
خفیہ دفاعی
تصاویر جاری کردیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خلیجی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک نئی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں جدید فضائی دفاعی نظاموں کے ساتھ کم لاگت فزیکل حفاظتی اقدامات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب مسلسل ڈرون حملوں نے ثابت کیا کہ جدید ترین دفاعی نظام بھی بیک وقت آنے والے ڈرونز کے جھنڈ کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق دھاتی جال پیچیدہ میزائل دفاعی نظاموں کے مقابلے میں ایک عملی، کم خرچ اور فوری نافذ کیے جانے والا حل ہیں، خاص طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے نسبتاً سست رفتار ڈرونز کے خلاف۔
تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ حفاظتی ڈھانچے بیلسٹک میزائلوں یا تیز رفتار کروز میزائلوں کے خلاف محدود مؤثریت رکھتے ہیں۔