امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس بحرانی کیفیت میں سعودی عرب نے اپنی لاجسٹک صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی سپلائی چین کو برقرار رکھا ہے، جسے عالمی میڈیا نے ’سعودی لاجسٹک معجزہ‘ قرار دیا ہے۔
سعودی لاجسٹک نیٹ ورک
مملکت نے خلیج عرب اور بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کو ملانے والے 5 نئے لاجسٹک راستے فعال کیے ہیں۔
یہ مربوط نظام سڑکوں اور ریلوے پر مشتمل ہے، جس کا مقصد مختلف ٹرانسپورٹ ذرائع کو یکجا کر کے مال برداری کی رفتار اور صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
#إحصائيات_موانئ | ناولت موانئ المملكة أكثر من نصف مليون حاوية قياسية، واستقبلت 70 ألف راكب و53 ألف عربة و830 ألف رأس ماشية، خلال أبريل 2026، ضمن منظومة تشغيلية تدعم انسيابية الحركة عبر الموانئ السعودية.#مساراتنا_ثابتة_في_عالم_متغير pic.twitter.com/VLIMAP9UxE
— مـوانـئ | MAWANI (@MawaniKSA) May 10, 2026
معیشت کے لیے لائف لائن
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عرب صحرا سے گزرنے والے بھاری ٹرکوں کے قافلے عالمی معیشت کے لیے زندگی کا ضامن بن چکے ہیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان نے مشترکہ طور پر ہرمز کے متبادل راستے فراہم کر کے عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنایا ہے۔
معادن کمپنی کی غیر معمولی کارکردگی
سعودی کان کنی کمپنی ’معادن‘ کے سی ای او بوب ولٹ کے مطابق کمپنی نے کھاد کی برآمدات کے لیے صرف 2 ہفتوں میں نقل و حمل کو 600 ٹرکوں سے بڑھا کر 3500 ٹرکوں تک پہنچا دیا ہے۔
یہ اقدام عالمی سطح پر کھاد کی کمی کو پورا کرنے میں کلیدی ثابت ہوا ہے۔
باہمی تعاون اور نئے تجارتی روٹس
موجودہ حالات میں خطے کے ممالک اب تاریخی تجارتی راستوں کی بحالی پر خصوصاً توجہ دے رہے ہیں۔
سعودی عرب اُردن اور شام کے راستے ترکی تک ریلوے رابطے پر کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ سے دبئی تک ٹرکوں کے ذریعے اشیا کی ترسیل کا عمل بھی لاجسٹک جدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
توانائی کا تسلسل اور پائپ لائنز
سعودی ارامکو کے سربراہ امین ناصر نے تصدیق کی ہے کہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن (پیٹرو لائن) اپنی 7 ملین بیرل یومیہ کی مکمل صلاحیت پر کام کر رہی ہے۔
یہ پائپ لائن خلیج عرب کے بحرانوں سے قطع نظر بحیرہ احمر میں ینبع پورٹ تک خام تیل کی محفوظ فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔
استمرارًا لجهود #موانئ في تعزيز كفاءة سلاسل الإمداد ودعم انسيابية حركة التجارة، يستمر العمل بمبادرة الإعفاء من أجور التخزين لبضائع الترانزيت حتى 15 يومًا في عدد من موانئ المملكة، بما يسهم في رفع كفاءة العمليات التشغيلية وتعزيز تنافسية الموانئ السعودية.… pic.twitter.com/FCfgfiQXKo
— مـوانـئ | MAWANI (@MawaniKSA) May 7, 2026
توانائی کی عالمی منڈی پر اثرات
یاد رہے کہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن 1980 میں صنعتی ضروریات کے لیے قائم کی گئی تھی، جو آج عالمی توانائی کی منڈی کے بحران میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے ممالک اب بندرگاہوں کی توسیع اور نئے ریلوے انفرا اسٹرکچر کے ذریعے اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت اپنی لاجسٹک استعداد کار کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ وہ اب بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک اسٹریٹجک صلاحیت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ لچکدار نیٹ ورک سعودی عرب کو ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک ناگزیر عالمی لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔