’میٹا‘ نے اپنی مقبول ترین میسجنگ ایپ ’واٹس ایپ‘ میں ایک جدید فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس اقدام کا مقصد صارفین کو اپنے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹ ’میٹا اے آئی‘ کے ساتھ زیادہ نجی، محفوظ اور براہ راست گفتگو کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
خفیہ چیٹ موڈ کا طریقہ کار
’انکوگنیٹو چیٹ‘ نامی اس نئے فیچر کے تحت صارفین میٹا اے آئی کے ساتھ ایسی عارضی گفتگو کر سکیں گے جو محفوظ نہیں کی جائے گی ۔
اس دوران جیسے ہی چیٹ بند یا فون لاک ہوگا، تمام پیغامات خود بخود غائب ہو جائیں گے اور میٹا کے سرورز پر کوئی ڈیٹا محفوظ نہیں ہوگا۔
ہر سیشن کے بعد پچھلی گفتگو کا تمام سیاق و سباق مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جس سے ہر نئی چیٹ خود مختار ہوگی۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ میٹا خود بھی ان نجی بات چیت کے مواد تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گی، جس سے صارفین کی پرائیویسی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
نئے فیچرز کا مرحلہ وار اجرا
صارفین کو یہ سہولت میٹا اے آئی کی چیٹ ونڈو کے اندر ایک نئے آئیکن کے ذریعے دستیاب ہوگی۔
یہ فیچر آنے والے مہینوں میں مرحلہ وار واٹس ایپ اور میٹا اے آئی کی الگ ایپلی کیشنز کے صارفین کے لیے جاری کیا جائے گا تاکہ تجربے کو ہموار بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ کمپنی سائیڈ چیٹ نامی ایک اور فیچر پر بھی کام کر رہی ہے۔
اس کے ذریعے صارفین گروپ چیٹس کے دوران نجی طور پر میٹا اے آئی سے سوالات پوچھ سکیں گے، جنہیں گروپ میں شامل دیگر شرکا نہیں دیکھ سکیں گے، جو ایک بڑی پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔
ڈیٹا پرائیویسی پر جاری بحث
سیکیورٹی کے دعووں کے باوجود میٹا کو ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔
کمپنی پر ماضی میں عالمی پبلشرز کی جانب سے کاپی رائٹ مواد کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جس سے صارفین میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ آیا صارفین اپنی حساس نوعیت کی گفتگو ایک ایسی پلیٹ فارم پر شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں، جس کی پالیسیوں پر مسلسل بحث جاری ہے۔
پرائیویسی کے تحفظ اور تکنیکی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنا میٹا کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
آمدن بڑھانے کے لیے نئے ماڈل
ان تکنیکی اپ ڈیٹس کے ساتھ ساتھ میٹا واٹس ایپ کے کاروباری ماڈل کو بھی وسعت دے رہا ہے۔
کمپنی ’واٹس ایپ پلس‘ کے نام سے ایک نئی سبسکرپشن سروس پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد اضافی سہولیات فراہم کر کے آمدنی میں اضافہ کرنا اور ٹیلی گرام جیسے حریفوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
میٹا کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ اے آئی کو روزمرہ کے استعمال کا حصہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
تاہم صارفین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اسے اپنی شفافیت اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔