اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کے نئے حملوں کی دھمکی، ایران کیسے نمٹے گا؟ صورتحال تشویشناک

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کی صورتحال
واشنگٹن ایران کو 2 مرتبہ آزما چکا، اب اسے سمجھنا ہوگا کہ فوجی حل کا وقت گزر چکا ہے، عباس عراقچی (فوٹو: اے آئی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد تہران میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جہاں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی نئی دھمکیوں کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی فوجی تصادم کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو 2 مرتبہ آزما چکا ہے اور اسے اب سمجھ جانا چاہیے کہ فوجی حل کا وقت گزر چکا ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے جمعرات کی شام اپنے بیان میں ایران کی فوجی تباہی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اُدھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی عسکری حکام نے گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ دوبارہ تصادم شروع کرنے کے مختلف ممکنہ منظر ناموں پر تفصیلی غور کیا ہے۔

بیجنگ میں امریکی اور چینی صدور کی ملاقات اور ایرانی تیل کی ترسیل کا مسئلہ
چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے (فوٹو؛ اے آئی جنریٹڈ)

ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران ہی ایران نے امریکی دباؤ کے جواب میں آبنائے ہرمز کو صرف چینی بحری جہازوں کے لیے کھولنے کا تزویراتی فیصلہ کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران کا یہ اقدام واشنگٹن کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کی چابی صرف اور صرف ایران کے پاس ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے مزید وضاحت کی ہے کہ دوست ممالک کے جہازوں کی نقل و حرکت اور جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر ہم آہنگی صرف ایرانی بحری افواج کے ذریعے ہی مکمل طور پر ممکن بنائی جائے گی۔

ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والے ایرانی جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ سیاسی محاذ پر تہران کو اپنے 14 نکاتی تصفیہ کے منصوبے کا امریکی جواب باقاعدہ موصول ہو گیا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اب بھی غیر ضروری مطالبات پر اصرار کر رہا ہے جسے کسی بھی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران نے مذاکرات کے لیے 5 بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری کا اعتراف اور عالمی ضمانتوں کے ساتھ جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔
اس کے علاوہ پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد فنڈز کی واپسی بھی ایرانی مطالبات میں لازمی قرار دی گئی ہے۔

اسی تسلسل میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والے ایرانی جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہران اب مزید امریکہ کو بے وقوف نہیں بنا سکے گا اور اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

اُدھر بھارت میں برکس اجلاس کے دوران عباس عراقچی نے امریکی جنگوں کو عالمی نظام کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں طاقت کی منصفانہ تقسیم کے لیے فوری طور پر بنیادی اور ناگزیر اصلاحات لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی متضاد رویہ سفارت کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 

ایران امریکہ تنازع میں جوہری پروگرام اور ہرمز تعطل کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی تصویر
2015 کے ایرانی جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں تقریباً 2 سال لگے تھے (فوٹو: الجزیرہ)

تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک واشنگٹن دھمکیوں کی زبان ترک کر کے ایرانی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا، تب تک کوئی بھی مذاکراتی عمل کامیاب نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ تقریباً 40 روز تک جاری رہی، جس کے بعد 7 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے عارضی جنگ بندی ہوئی۔ 

تاہم کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات جاری رہنے کے باوجود فریقین کے درمیان اختلافات کی خلیج اب بھی بہت وسیع ہے۔

مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ 

اس ناکہ بندی میں آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقے بھی شامل ہیں، جو عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے